دولت نہ کوئی جاہ و حشم مانگ رہا ہوں
میں تجھ سے تِرا فضل و کرم مانگ رہا ہوں
محبوب ہے مجھ کو تِری چوکھٹ کی غلامی
دیکھو تو میں کیا دیدۂ نم مانگ رہا ہوں
ہو مجھ پہ عنایت تِری ہستی کے مطابق
میں تجھ سے تِری شان سے کم مانگ رہا ہوں
سچائی کا نغمہ ہو خدا میری زباں پر
ہاتھوں میں صداقت کا قلم مانگ رہا ہوں
برسوں سے ترستی ہیں زیارت کو نگاہیں
یثرب کی مسا، صبحِ حرم مانگ رہا ہوں
واقف ہے مِرے دل کے تو احوال سے مولا
ملت کی کڑھن، قوم کا غم مانگ رہا ہوں
بخشش کا وسیلہ ہے فقط تیری محبت
میں تجھ سے تجھے تیری قسم مانگ رہا ہوں
حیدر کو تو بس چاہیے پروانہ رضا کا
جنت نہ کوئی باغ ارم مانگ رہا ہوں
حیدر ندوی
No comments:
Post a Comment