Tuesday, 16 June 2026

دلگیر ہیں بس اس لیے دلشاد نہیں ہم

 دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم

کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم

اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن

اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم

برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے

سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟

گِنواؤ نہ لوگوں کو ابھی عیب ہمارے

ہیں علم کے طالب میاں استاد نہیں ہم

سچ پوچھو تو ہم سے نہ کٹیں گی یہ چٹانیں

عاشق ہیں مگر اتنے بھی فرہاد نہیں ہم

آئیں گے کسی طور نہ ہم جال میں تیرے

جو تُو نے سمجھ رکھا ہے صیاد، نہیں ہم

نادم ہو کیے پر تو یوں گردن نہ جھکاؤ

ہاتھوں میں ہے شمشیر پہ جلاد نہیں ہم

ہے کچھ تو سبق ہم نے بھی قابیل سے سیکھا

صد شکر کسی فتنے کی بنیاد نہیں ہم

کل یاد کریں گے ہمیں ہر بات میں جاوید

وہ لوگ جنہیں آج ذرا یاد نہیں ہم


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment