Showing posts with label راشف عزمی. Show all posts
Showing posts with label راشف عزمی. Show all posts

Thursday, 9 September 2021

ہوا کچھ گنگنائے تو مجھے تم یاد آتے ہو

 ہوا کچھ گنگنائے تو مجھے تم یاد آتے ہو

کلی جب مسکرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو

کبھی پچھلے پہر میں رات کے جو تیز آندھی سے

دِیا لو تھر تھرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو

لبِ خاموش پہ جب بھی خیالوں کے جزیروں کی

کوئی آواز آئے تو مجھے تم یاد آتے ہو

Wednesday, 14 April 2021

لکھ اے مظلوم سر بریدہ لکھ

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 لکھ اے مظلومِ سر بریدہ لکھ

حال حلقوں میں خوں چکیدہ لکھ

میں تِرا مرثیہ لکھوں گا ضرور

تو مِری شان میں قصیدہ لکھ

نام اپنے کمر خمیدہ کے

حسرتِ سروِ قد کشیدہ لکھ

Wednesday, 7 April 2021

کرتے آہ و زاری لوگ

 کرتے آہ و زاری لوگ

مر گئے باری باری لوگ

ایک تماشائے حیرت

ایک بڑی فنکاری لوگ

گِریہ کناں ہے ہر منظر

کر گئے وحشت طاری لوگ

Tuesday, 6 April 2021

کوئی دعا نہ ہی کوئی سلام شہزادی

 کوئی دعا نہ ہی کوئی سلام شہزادی

مِرا خدا تمہیں بخشے دوام شہزادی

تراش و رنگِ بدن کا اتار دو صدقہ

سراپا حسن ہے ماہِ تمام شہزادی

کسی کے حسنِ تغافل کا کھینچ کر نقشہ

کہ بامِ ہجر پہ روتی ہے شام شہزادی

Monday, 5 April 2021

میں رقص کروں زنجیر بنو

 میں رقص کروں زنجیر بنو

مِرے خوابوں کی تعبیر بنو

میں رانجھا اپنا نام رکھوں

اور تم بھی میری ہیر بنو

اسکیچ بناؤں میں تیرا

تم لفظوں کی تصویر بنو

سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے

 سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے

اک عقیدت ہے اس قبیلے سے

ایک خط اس کی جیب سے نکلا

لاش لٹکی ہوئی تھی پنکھے سے

اس کی عظمت پہ اعتقاد نہیں

لوگ ملتے ہیں جس وسیلے سے

Wednesday, 31 March 2021

آ کر حال سناؤ تم بھی

 آ کر حال سناؤ تم بھی

رُخ سے پردہ ہٹاؤ تم بھی

میرا قبیلہ سینہ سِپر ہے

اب تلوار اٹھاؤ تم بھی

لو میں پردہ چھوڑ کے آیا

اپنی نظریں بچاؤ تم بھی

Thursday, 25 March 2021

تیغ و شمشیر اٹھا بسم اللہ

 تیغ و شمشیر اٹھا بسم اللہ

میں ہوں راضی بہ رضا بسم اللہ

وادئ شوق کے باشندوں کو

حکمِ یزدان سُنا، بسم اللہ

شامِ غُربت میں طنابِ خیمہ

فوجِ و لشکر میں جلا بسم اللہ

Wednesday, 24 March 2021

ان کے ناز و نخرے توبہ

 اُن کے ناز و نخرے توبہ

پائل پہنے غمزے توبہ

آنکھوں کا وہ کاجل اُف اُف

ہیچ و خم زُلفوں کے توبہ

بستی بستی ڈُھونڈ رہا تھا

قاتل کے وہ حربے توبہ

جنوں کی وحشتیں مرشد

 جنوں کی وحشتیں مُرشد

یہی ہیں ساعتیں مرشد

ہزاروں دُکھ بھرے قِصے

ہزاروں راحتیں مرشد

بڑی ہی فِتنہ پرور ہیں

یہ اپنی عادتیں مرشد

پوچھ عشق ہے یا جنوں ہے یہ

 پوچھ عشق ہے یا جنوں ہے یہ

یا کسی نظر کا فسوں ہے یہ

رنگ ہے کہ آتش ہے موجزن

یا چراغ غلطاں بخوں ہے یہ

اک سکوت رقصاں ہے چار سُو

اور درختوں میں کیا سکوں ہے یہ