ہوا کچھ گنگنائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کلی جب مسکرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کبھی پچھلے پہر میں رات کے جو تیز آندھی سے
دِیا لو تھر تھرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
لبِ خاموش پہ جب بھی خیالوں کے جزیروں کی
کوئی آواز آئے تو مجھے تم یاد آتے ہو
ہوا کچھ گنگنائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کلی جب مسکرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
کبھی پچھلے پہر میں رات کے جو تیز آندھی سے
دِیا لو تھر تھرائے تو مجھے تم یاد آتے ہو
لبِ خاموش پہ جب بھی خیالوں کے جزیروں کی
کوئی آواز آئے تو مجھے تم یاد آتے ہو
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
لکھ اے مظلومِ سر بریدہ لکھ
حال حلقوں میں خوں چکیدہ لکھ
میں تِرا مرثیہ لکھوں گا ضرور
تو مِری شان میں قصیدہ لکھ
نام اپنے کمر خمیدہ کے
حسرتِ سروِ قد کشیدہ لکھ
کرتے آہ و زاری لوگ
مر گئے باری باری لوگ
ایک تماشائے حیرت
ایک بڑی فنکاری لوگ
گِریہ کناں ہے ہر منظر
کر گئے وحشت طاری لوگ
کوئی دعا نہ ہی کوئی سلام شہزادی
مِرا خدا تمہیں بخشے دوام شہزادی
تراش و رنگِ بدن کا اتار دو صدقہ
سراپا حسن ہے ماہِ تمام شہزادی
کسی کے حسنِ تغافل کا کھینچ کر نقشہ
کہ بامِ ہجر پہ روتی ہے شام شہزادی
میں رقص کروں زنجیر بنو
مِرے خوابوں کی تعبیر بنو
میں رانجھا اپنا نام رکھوں
اور تم بھی میری ہیر بنو
اسکیچ بناؤں میں تیرا
تم لفظوں کی تصویر بنو
سب ہیں آئینہ ساز پیشے سے
اک عقیدت ہے اس قبیلے سے
ایک خط اس کی جیب سے نکلا
لاش لٹکی ہوئی تھی پنکھے سے
اس کی عظمت پہ اعتقاد نہیں
لوگ ملتے ہیں جس وسیلے سے
آ کر حال سناؤ تم بھی
رُخ سے پردہ ہٹاؤ تم بھی
میرا قبیلہ سینہ سِپر ہے
اب تلوار اٹھاؤ تم بھی
لو میں پردہ چھوڑ کے آیا
اپنی نظریں بچاؤ تم بھی
تیغ و شمشیر اٹھا بسم اللہ
میں ہوں راضی بہ رضا بسم اللہ
وادئ شوق کے باشندوں کو
حکمِ یزدان سُنا، بسم اللہ
شامِ غُربت میں طنابِ خیمہ
فوجِ و لشکر میں جلا بسم اللہ
اُن کے ناز و نخرے توبہ
پائل پہنے غمزے توبہ
آنکھوں کا وہ کاجل اُف اُف
ہیچ و خم زُلفوں کے توبہ
بستی بستی ڈُھونڈ رہا تھا
قاتل کے وہ حربے توبہ
جنوں کی وحشتیں مُرشد
یہی ہیں ساعتیں مرشد
ہزاروں دُکھ بھرے قِصے
ہزاروں راحتیں مرشد
بڑی ہی فِتنہ پرور ہیں
یہ اپنی عادتیں مرشد
پوچھ عشق ہے یا جنوں ہے یہ
یا کسی نظر کا فسوں ہے یہ
رنگ ہے کہ آتش ہے موجزن
یا چراغ غلطاں بخوں ہے یہ
اک سکوت رقصاں ہے چار سُو
اور درختوں میں کیا سکوں ہے یہ