Wednesday, 7 April 2021

کرتے آہ و زاری لوگ

 کرتے آہ و زاری لوگ

مر گئے باری باری لوگ

ایک تماشائے حیرت

ایک بڑی فنکاری لوگ

گِریہ کناں ہے ہر منظر

کر گئے وحشت طاری لوگ

طرز، جنوں، دشتِ وحشت

جانیں کیا بازاری لوگ

صدمۂ فُرقت جھیلتے ہیں

باعثِ دنیاداری لوگ

قطرۂ شبنم ہم ہیں اور

صورتِ شعلہ باری لوگ


راشف عزمی

No comments:

Post a Comment