Wednesday, 7 April 2021

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

 مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

میری بھی کوئی قیمت ہو گئی ہے

وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں

یہ دنیا خوب صورت ہو گئی ہے

چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں

بیاں مجھ سے حقیقت ہو گئی ہے

رواں دریا ہیں انسانی لہو کے

مگر پانی کی قلت ہو گئی ہے

مجھے بھی اک ستمگر کے کرم سے

ستم سہنے کی عادت ہو گئی ہے

حقیقت یہ ہے ہم کیا اٹھ گئے ہیں

وفا دنیا سے رخصت ہو گئی ہے

غمِ جاناں میں جب سے مبتلا ہوں

غمِ دوراں سے فرصت ہو گئی ہے

اب ان کی کفرِ سامانی بھی آتش

دل و جاں پر عبارت ہو گئی ہے​


آتش بہاولپوری

دیوی دیال

No comments:

Post a Comment