اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو
تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو
سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں
خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو
الٰہی خیر، کہ ان کا سلام آیا ہے
یہی سلام کہیں آخری سلام نہ ہو
مجھے تو راس نہ آئی حیاتِ نو لیکن
خطا معاف تمہارا بھی یہ مقام نہ ہو
جمیل ان سے تعارف تو ہو گیا، لیکن
اب ان کے بعد کسی سے دعا سلام نہ ہو
جمیل مرصع پوری
No comments:
Post a Comment