Wednesday, 7 April 2021

اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو

 اگر یہ ضد ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہ ہو

تو ایسی راہ سے گزرو جو راہ عام نہ ہو

سنا تو ہے کہ محبت پہ لوگ مرتے ہیں

خدا کرے کہ محبت تمہارا نام نہ ہو

الٰہی خیر، کہ ان کا سلام آیا ہے

یہی سلام کہیں آخری سلام نہ ہو

مجھے تو راس نہ آئی حیاتِ نو لیکن

خطا معاف تمہارا بھی یہ مقام نہ ہو

جمیل ان سے تعارف تو ہو گیا، لیکن 

اب ان کے بعد کسی سے دعا سلام نہ ہو 


جمیل مرصع پوری

No comments:

Post a Comment