Wednesday, 7 April 2021

ایک الجھی پہیلی رہ گئی ہے

 ایک الجھی پہیلی رہ گئی ہے

اداسی ہی سہیلی رہ گئی ہے

تمہارا عکس رخصت ہو گیا ہے

ہماری آنکھ گیلی رہ گئی ہے

کسی کا کچھ نہیں بگڑا ہوس میں

کسی کی روح میلی رہ گئی ہے

محبت اصلی تھی جو مر گئی ہے

مگر اک یاد جعلی رہ گئی ہے


تعبیر علی

No comments:

Post a Comment