Showing posts with label خاور زیدی. Show all posts
Showing posts with label خاور زیدی. Show all posts

Thursday, 6 February 2020

یاد اس کی اب تو رونق جاں بھی نہیں رہی

قندیلِ عشقِ نور فشاں بھی نہیں رہی
یاد اس کی اب تو رونقِ جاں بھی نہیں رہی
صحرا بس ایک قطرے میں غرقاب ہو گئے
اب آرزوئے تشنہ لباں بھی نہیں رہی
اب لوٹنا پڑے گا انا کے محاذ سے
اب طاقتِ گرفتِ کماں بھی نہیں رہی

تیری جنت سے میں نکلا ہوں ستارے لے کر

کوثرِ چشم کے بہتے ہوِئے دھارے لے کر
تیری جنت سے میں نکلا ہوں ستارے لے کر
بیکراں لگتا ہے اب مجھ کو یہ دریائے فراق
جانے کس سمت گیا ہے وہ کنارے لے کر
اب یہ سوچا ہے کہ گر گر کے سنبھلنا اچھا
کچھ وقار آیا نہ چلنے میں سہارے لے کر

Tuesday, 3 January 2017

جشن قرب یار کا دل پر نشہ رہ جائے گا

جشنِ قربِ یار کا دل پر نشہ رہ جائے گا
شب گزر جائے گی لیکن رت جگا رہ جائے گا
پھول ہے تو میرے دل کا اور میں خوشبو تری
شاخ سے ٹوٹے اگر دونوں میں کیا رہ جائے گا
میں تو سمجھا تھا گلے ملنے سے دل مل جائیں گے
کیا خبر تھی پھر بھی کوئی فاصلہ رہ جائے گا

کوثر چشم کے بہتے ہوئے دھارے لے کر

کوثرِ چشم کے بہتے ہوئے دھارے لے کر
تیری جنت سے میں نکلا ہوں ستارے لے کر
بے کراں لگتا ہے اب مجھ کو یہ دریائے فراق
جانے کس سمت گیا ہے وہ کنارے لے کر
اب یہ سوچا ہے کہ گر گر کے سنبھلنا اچھا
کچھ وقار نہ آیا چلنے میں سہارے لے کر

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تو نے

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تُو نے
کیا گزرتی رہی ہم پر نہیں دیکھا تو نے
کانچ کا جسم لیے شہر میں پھرنے والے 
دستِ حالات میں پتھر نہیں دیکھا تو نے
اے مجھے صبر کے آداب سکھانے والے 
جب وہ بچھڑا تھا وہ منظر نہیں دیکھا تو نے

Saturday, 31 December 2016

کبھی ہم پہ مہر و مہ کا یہ نظام مہرباں ہو

کبھی ہم پہ مہر و مہ کا یہ نظام مہرباں ہو
کوئی صبح دوست ٹھہرے کوئی شام مہرباں ہو
یہ خدائے بحر و بحر بر کی بھی عجیب حکمتیں ہیں
کبھی تشنگی ہو قرباں، کبھی جام مہرباں ہو
کبھی شب کی خلوتوں میں نہ سنے وہ دل کی باتیں
کبھی مہربان ہو تو سرِ عام مہرباں ہو

سرخئ شام لگے مجھ کو شہیدوں کا لہو

سرخئ شام لگے مجھ کو شہیدوں کا لہو
اور ستارے کسی بیوہ کے لرزتے آنسو
آج خود ریگ اڑاتے ہوئے غزلیں گائیں
آج صحرا میں بگولہ تھا، نہ کوئی آہو
اس کی یادیں ہیں کہ کانٹوں سے بھرا سینہ ہے
چین ملتا ہی نہیں دل کو کسی بھی پہلو

ہر ایک شعر تری ہی مثال ہے کہ نہیں

ہر ایک شعر تِری ہی مثال ہے کہ نہیں
سخنوری میں یہ دستِ کمال ہے کہ نہیں
میں تیرے نام کی خاطر ہی ٹوٹ کر بکھرا
مِری شکست کا تجھ کو ملال ہے کہ نہیں
جواب دے کہ نہ دے یہ تِری رضا لیکن
سوال یہ ہے کہ اِذنِ سوال ہے کہ نہیں

Sunday, 11 December 2016

وہ شخص لے تو گیا سر اتار کر میرا

وہ شخص لے تو گیا سر اتار کر میرا
بدل سکا نہ مگر نقطۂ نظر میرا
بجا کہ منزلِ دار و رسن بھی آ ہی گئی
یہیں پہ ختم نہ ہو گا مگر سفر میرا
ستم شعار کو پیارے ہیں خد و خال مِرے
وہ قتل کر کے سجائے گا گھر میں سر میرا

اک حسن ہی تیرا نہیں تصویر تک آیا

اک حسن ہی تیرا نہیں تصویر تک آیا
اک جذبۂ گمنام بھی تشہیر تک آیا
یہ کس نے خزاں چہرہ شفق رنگ کیا ہے
کس خون کا چھینٹا رخِ دلگیر تک آیا
پھر یوں ہے کہ طاقت نہ رہی دستِ کماں میں
پھر یہ ہے کہ خود چل کے ہدف تیر تک آیا

نور بانہوں سے سنبھالا دینا

نور بانہوں سے سنبھالا دینا
تیرہ بختوں کو اجالا دینا
کوئی خود اگر مانگنے آئے
تم کفِ دست پہ چھالا دینا
زرد پتوں کا چمن میں پھرنا
گزرے وقتوں کا حوالا دینا

Thursday, 10 November 2016

یہ الگ بات کہ ہم تشنہ نظر جاتے ہیں

یہ الگ بات کہ ہم تشنہ نظر جاتے ہیں
تیرے جلوے تو سرِ طور بکھر جاتے ہیں
دیکھ اے جانِ تغافل! کہ تِری محفل سے
اہلِ دل، اہلِ وفا، اہلِ نظر جاتے ہیں
تیری راہوں میں یہ آنکھوں کو بچھانے والے
تیری ہی بزم سے بادیدۂ نم جاتے ہیں

دے کوئی درد لازوال مجھے

دے کوئی دردِ لازوال مجھے
غمِ محدود سے نکال مجھے
کون سا پھول آپ جیسا ہے
دیکھنا ہو گا ڈال ڈال مجھے
ڈس رہے ہیں بہار بن بن کر
صحنِ زنداں میں کچھ خیال مجھے

میں اپنی راہ کی دیوار کیوں ہوں

میں اپنی راہ کی دیوار کیوں ہوں
ابھی تک صاحبِ کردار کیوں ہوں
غبار اٹھے جہاں بھی پاؤں رکھوں
نہ جانے فرشِ گل پر بار کیوں ہوں
جہاں سب کے بھرم ٹوٹے پڑے ہیں
وہاں میں صاحبِ پندار کیوں ہوں

Thursday, 27 October 2016

دن کو جو شخص میری گھات میں تھا

دن کو جو شخص میری گھات میں تھا
شب جو آئی، مِری ہی ذات میں تھا
اس نے مانگا نہ اک ستارہ بھی
آسماں جبکہ میرے ہات میں تھا
درس دیتا ہُوا بغاوت کا
ایک جگنو اندھیری رات میں تھا

دل مرے حوصلے بڑھائے گا

دل مِرے حوصلے بڑھائے گا
ہجر کا لمحہ بِیت جائے گا
بولتا ہے منڈیر پر کوّا
آج کوئی ضرور آئے گا
کشتیوں کو ابھارنے والا
ایک دن خود ہی ڈوب جائے گا

سمندر کی طرف بہتا ملا ہے

سمندر کی طرف بہتا ملا ہے
جو دریا بھی ملا پیاسا ملا ہے
کوئی دیکھے مِری معراجِ وحشت
مجھے دریا میں بھی صحرا ملا ہے
خضرؑ کی رہنمائی میں چلا تھا
یہی جو راہ میں بھٹکا ملا ہے

Wednesday, 7 October 2015

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تو نے

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تُو نے
کیا گزرتی رہی ہم پر نہیں دیکھا تُو نے
کانچ کا جسم لیے شہر میں پھِرنے والے
دستِ حالات میں پتھر نہیں دیکھا تُو نے
اے مجھے صبر کے آداب سکھانے والے
جب وہ بچھڑا تھا وہ منظر نہیں دیکھا تُو نے