Sunday, 11 December 2016

اک حسن ہی تیرا نہیں تصویر تک آیا

اک حسن ہی تیرا نہیں تصویر تک آیا
اک جذبۂ گمنام بھی تشہیر تک آیا
یہ کس نے خزاں چہرہ شفق رنگ کیا ہے
کس خون کا چھینٹا رخِ دلگیر تک آیا
پھر یوں ہے کہ طاقت نہ رہی دستِ کماں میں
پھر یہ ہے کہ خود چل کے ہدف تیر تک آیا
دیکھا تھا کہ اک شخص بدلنے کو ہے راہیں
دیکھا ہے کہ یہ خواب ہی تعبیر تک آیا
مر جائے گی امید یہاں عدل کی خاورؔ
کٹ جائے گا جو ہاتھ بھی زنجیر تک آیا

خاور زیدی

No comments:

Post a Comment