اک حسن ہی تیرا نہیں تصویر تک آیا
اک جذبۂ گمنام بھی تشہیر تک آیا
یہ کس نے خزاں چہرہ شفق رنگ کیا ہے
کس خون کا چھینٹا رخِ دلگیر تک آیا
پھر یوں ہے کہ طاقت نہ رہی دستِ کماں میں
دیکھا تھا کہ اک شخص بدلنے کو ہے راہیں
دیکھا ہے کہ یہ خواب ہی تعبیر تک آیا
مر جائے گی امید یہاں عدل کی خاورؔ
کٹ جائے گا جو ہاتھ بھی زنجیر تک آیا
خاور زیدی
No comments:
Post a Comment