Showing posts with label نیرنگ. Show all posts
Showing posts with label نیرنگ. Show all posts

Wednesday, 10 April 2024

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

 کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

ہم کو اگر میسّر جاناں کی دید ہوتی

قیمت میں دِیدِ رُخ کی ہم نقدِ جاں لگاتے

بازارِ ناز لگتا، دل کی خرید ہوتی

کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سُنتے

ناز و نیاز کی یوں گُفت و شنید ہوتی

Thursday, 20 April 2023

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

تمام احباب کو عید مبارک 


کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

ہم کو اگر میسّر جاناں کی دید ہوتی

قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے

بازارِ ناز لگتا، دل کی خرید ہوتی

کچھ اپنی بات کہتے، کچھ میرا حال سنتے

ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی

Wednesday, 31 March 2021

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر

 مِرے پہلو سے جو نکلے وہ مِری جاں ہو کر

رہ گیا شوق دلِ زار میں ارماں ہو کر

زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو

گُل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر

اشک شادی ہے یہ کچھ مژدہ صبا لائی ہے

شبنم آلودہ ہوا پھُول جو خنداں ہو کر

Wednesday, 24 March 2021

تو جا بجا ہے تو سو بسو ہے

 تُو جا بجا ہے تُو سُو بسُو ہے

تُو کو بکو ہے تُو مو بمو ہے

ظاہِر بھی تُو ہے مظہر بھی تُو ہے

ہر سمت اپنے خود رو برو ہے

جلوہ بھی تیرا آنکھیں بھی تیری

منظور بھی تو ناظر بھی تُو ہے

Tuesday, 23 March 2021

اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے

 اک ہجومِ غم و کلفت ہے، خدا خیر کرے

جان پر نِت نئی آفت ہے، خدا خیر کرے

جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے ماندن

کچھ مصیبت ہی مصیبت ہے خدا خیر کرے​

آ چلا اس بتِ عیار کی باتوں کا یقیں

سادگی اپنی قیامت ہے، خدا خیر کرے

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی

 کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی

زندگی سی زندگی ہے، یہ ہماری زندگی

کیا ارادوں سے ہے حاصل، طاقت و فرصت کہاں

ہائے، کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی

اے سرِ شوریدہ! اب تیرے وہ سودا کیا ہوئے

کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

 کس طرح واقف ہوں حالِ عاشقِ جاں باز سے

ان کو فُرصت ہی نہیں ہے کاروبارِ ناز سے

میرے دردِ دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار

اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے

ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سرِ الست

آپ ہی واقف نہیں ہیں رسمِ خط راز سے