کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
ہم کو اگر میسّر جاناں کی دید ہوتی
قیمت میں دِیدِ رُخ کی ہم نقدِ جاں لگاتے
بازارِ ناز لگتا، دل کی خرید ہوتی
کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سُنتے
ناز و نیاز کی یوں گُفت و شنید ہوتی
کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
ہم کو اگر میسّر جاناں کی دید ہوتی
قیمت میں دِیدِ رُخ کی ہم نقدِ جاں لگاتے
بازارِ ناز لگتا، دل کی خرید ہوتی
کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سُنتے
ناز و نیاز کی یوں گُفت و شنید ہوتی
تمام احباب کو عید مبارک
کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
ہم کو اگر میسّر جاناں کی دید ہوتی
قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے
بازارِ ناز لگتا، دل کی خرید ہوتی
کچھ اپنی بات کہتے، کچھ میرا حال سنتے
ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی
مِرے پہلو سے جو نکلے وہ مِری جاں ہو کر
رہ گیا شوق دلِ زار میں ارماں ہو کر
زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو
گُل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر
اشک شادی ہے یہ کچھ مژدہ صبا لائی ہے
شبنم آلودہ ہوا پھُول جو خنداں ہو کر
تُو جا بجا ہے تُو سُو بسُو ہے
تُو کو بکو ہے تُو مو بمو ہے
ظاہِر بھی تُو ہے مظہر بھی تُو ہے
ہر سمت اپنے خود رو برو ہے
جلوہ بھی تیرا آنکھیں بھی تیری
منظور بھی تو ناظر بھی تُو ہے
اک ہجومِ غم و کلفت ہے، خدا خیر کرے
جان پر نِت نئی آفت ہے، خدا خیر کرے
جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے ماندن
کچھ مصیبت ہی مصیبت ہے خدا خیر کرے
آ چلا اس بتِ عیار کی باتوں کا یقیں
سادگی اپنی قیامت ہے، خدا خیر کرے
کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی
زندگی سی زندگی ہے، یہ ہماری زندگی
کیا ارادوں سے ہے حاصل، طاقت و فرصت کہاں
ہائے، کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی
اے سرِ شوریدہ! اب تیرے وہ سودا کیا ہوئے
کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی
کس طرح واقف ہوں حالِ عاشقِ جاں باز سے
ان کو فُرصت ہی نہیں ہے کاروبارِ ناز سے
میرے دردِ دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار
اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے
ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سرِ الست
آپ ہی واقف نہیں ہیں رسمِ خط راز سے