Tuesday, 23 March 2021

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

 کس طرح واقف ہوں حالِ عاشقِ جاں باز سے

ان کو فُرصت ہی نہیں ہے کاروبارِ ناز سے

میرے دردِ دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار

اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے

ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سرِ الست

آپ ہی واقف نہیں ہیں رسمِ خط راز سے

دل گئے ایماں گئے عقلیں گئیں جانیں گئیں

تم نے کیا کیا کر دِکھایا اک نگاہِ ناز سے

آہ، کل تک وہ نوازش، آج اتنی بے رخی

کچھ تو نِسبت چاہیے انجام کو آغاز


غلام بھیک نیرنگ

No comments:

Post a Comment