Showing posts with label آفاق دلنوی. Show all posts
Showing posts with label آفاق دلنوی. Show all posts

Saturday, 11 March 2023

یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے

 یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے

کفن کا طوق پہنایا گیا ہے

عبث برہم نہیں ہوں اے فرشتو

مجھے زندہ ہی دفنایا گیا ہے

وہ دیکھو میرے مرتے ہی رقیبو

مجھے فوٹو پہ لٹکایا گیا ہے

Wednesday, 15 February 2023

نظر کھوئی نظارے میں نظارو باخبر رہنا

 نظر کھوئی نظارے میں نظارو باخبر رہنا

وہ گُل روٹھا بہاروں میں بہارو! باخبر رہنا

زباں پر جب جڑے تالے زمانے کے خداؤں نے

نگاہوں نے چھڑی باتیں اشارو! باخبر رہنا

اری اے جوئے مضطر! تُو اکیلی ہی نہیں گریاں

رواں میں بھی تو ہوں باہم فوارو! باخبر رہنا

شبِ فرقت کی ویرانی میں اکثر جاگ کر تنہا

Friday, 18 March 2022

دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو

 دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو

رات بھر بے قرار تھے ہم تو

ان کی آمد کے پھول کھلتے تھے

گلشنِ انتظار تھے ہم تو

آپ نے چاند بن کے چمکایا

راستے کا غبار تھے ہم تو

Tuesday, 1 February 2022

آج یوں اپنے آشیاں سے اٹھے

 آج یوں اپنے آشیاں سے اٹھے

روح جو جسمِ ناتواں سے اٹھے

اے جہاں دار و با اثر لوگو

آپ ہی بیٹھیۓ ہم یاں سے اٹھے

عمر بھر خانہ بدوشی میں پھرے

آخری وقت کیوں مکاں سے اٹھے

Friday, 7 January 2022

اس دور پر فتن کا تل تل لہو لہو ہے

 اس دور پر فتن کا تل تل لہو لہو ہے

جاہل جہاں پناہ ہے، فاضل لہو لہو ہے

شبخون مارتے ہیں ہر موڑ پر لٹیرے

اس راہِ کربلا کی منزل لہو لہو ہے

سفاک موجِ دریا گرداب کھولتی ہے

غمناک ہے کھِویّا ساحل لہو لہو ہے

Thursday, 6 January 2022

تیری گلی میں اے میرے دلبر میں جان اپنی لٹا رہا ہوں

 تیری گلی میں اے میرے دلبر میں جان اپنی لٹا رہا ہوں

وفا کی دنیا کا پاسباں ہوں، وفا میں خود کو مٹا رہا ہوں

شبِ ہجر کے غموں کا مارا، چلا ہوں بے آس، بے سہارہ

لو آج تیرے وطن سے ظالم میں لاش اپنی اٹھا رہا ہوں

پڑے جو تیرے حسن کے پالے، رہے نہ قابو میں عشق والے

میں عاشقوں کی صفوں میں شامل چراغِ ہستی مٹا رہا ہوں

Friday, 17 December 2021

ہمارے خط کا جواب لکھنا

 ہمارے خط کا جواب لکھنا

قلم اٹھانا، کتاب لکھنا

اگر اجابت نہ ہو میسر

تو عمر بھر کا عذاب لکھنا

سدا مہکتا رہے گلستاں

چمن کی خاطر گلاب لکھنا

Thursday, 16 December 2021

کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں

 کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں

دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں

زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب

آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں

دشتِ تنہائی میں پھرتا ہی رہا آوارہ میں 

راس پل بھر بھی نہ آیا انتظاری کا جنوں