یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے
کفن کا طوق پہنایا گیا ہے
عبث برہم نہیں ہوں اے فرشتو
مجھے زندہ ہی دفنایا گیا ہے
وہ دیکھو میرے مرتے ہی رقیبو
مجھے فوٹو پہ لٹکایا گیا ہے
یہ کس ماحول میں لایا گیا ہے
کفن کا طوق پہنایا گیا ہے
عبث برہم نہیں ہوں اے فرشتو
مجھے زندہ ہی دفنایا گیا ہے
وہ دیکھو میرے مرتے ہی رقیبو
مجھے فوٹو پہ لٹکایا گیا ہے
نظر کھوئی نظارے میں نظارو باخبر رہنا
وہ گُل روٹھا بہاروں میں بہارو! باخبر رہنا
زباں پر جب جڑے تالے زمانے کے خداؤں نے
نگاہوں نے چھڑی باتیں اشارو! باخبر رہنا
اری اے جوئے مضطر! تُو اکیلی ہی نہیں گریاں
رواں میں بھی تو ہوں باہم فوارو! باخبر رہنا
شبِ فرقت کی ویرانی میں اکثر جاگ کر تنہا
دھڑکنوں سے فرار تھے ہم تو
رات بھر بے قرار تھے ہم تو
ان کی آمد کے پھول کھلتے تھے
گلشنِ انتظار تھے ہم تو
آپ نے چاند بن کے چمکایا
راستے کا غبار تھے ہم تو
آج یوں اپنے آشیاں سے اٹھے
روح جو جسمِ ناتواں سے اٹھے
اے جہاں دار و با اثر لوگو
آپ ہی بیٹھیۓ ہم یاں سے اٹھے
عمر بھر خانہ بدوشی میں پھرے
آخری وقت کیوں مکاں سے اٹھے
اس دور پر فتن کا تل تل لہو لہو ہے
جاہل جہاں پناہ ہے، فاضل لہو لہو ہے
شبخون مارتے ہیں ہر موڑ پر لٹیرے
اس راہِ کربلا کی منزل لہو لہو ہے
سفاک موجِ دریا گرداب کھولتی ہے
غمناک ہے کھِویّا ساحل لہو لہو ہے
تیری گلی میں اے میرے دلبر میں جان اپنی لٹا رہا ہوں
وفا کی دنیا کا پاسباں ہوں، وفا میں خود کو مٹا رہا ہوں
شبِ ہجر کے غموں کا مارا، چلا ہوں بے آس، بے سہارہ
لو آج تیرے وطن سے ظالم میں لاش اپنی اٹھا رہا ہوں
پڑے جو تیرے حسن کے پالے، رہے نہ قابو میں عشق والے
میں عاشقوں کی صفوں میں شامل چراغِ ہستی مٹا رہا ہوں
ہمارے خط کا جواب لکھنا
قلم اٹھانا، کتاب لکھنا
اگر اجابت نہ ہو میسر
تو عمر بھر کا عذاب لکھنا
سدا مہکتا رہے گلستاں
چمن کی خاطر گلاب لکھنا
کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں
دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں
زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب
آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں
دشتِ تنہائی میں پھرتا ہی رہا آوارہ میں
راس پل بھر بھی نہ آیا انتظاری کا جنوں