کر گیا مجروح مجھ کو اعتباری کا جنوں
دل کو تڑپاتا رہا بس اضطراری کا جنوں
زخمِ دل کرتا رہا آنسو کے دھاروں کی طلب
آنکھ سے بہتا رہا یوں آہ و زاری کا جنوں
دشتِ تنہائی میں پھرتا ہی رہا آوارہ میں
راس پل بھر بھی نہ آیا انتظاری کا جنوں
تُو نے آنسو ہی دئیے پر یہ سمجھ پایا نہ میں
میری نظروں پر تھا حائل بردباری کا جنوں
ساقیا! پینے سے ہوں عاجز میں اس اعزاز سے
مجھ پہ طاری ہے مِری خود اختیاری کا جنوں
دل تو چھلنی تھا مگر آنکھیں بڑی مسرور تھیں
اپنی رنجش پہ تھا بھاری تیری یاری کا جنوں
سامنے میرے رہا، لیکن ردا اوڈھے ہوئے
ہائے! سمجھا ہی نہیں آئینہ داری کا جنوں
حالِ دل آفاق کہہ پائے نہ ہم ان سے کبھی
دھڑکنوں میں ہی چھپایا بے قراری کا جنوں
آفاق دلنوی
No comments:
Post a Comment