Showing posts with label سخی لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label سخی لکھنوی. Show all posts

Thursday, 17 March 2022

عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

 عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ

یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے

آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ

اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر

میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ

Monday, 31 January 2022

گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے

 گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے

آج ساغر شراب کا چھلکے

سوگ میں میرے مہندی کے بدلے

لال کرتے ہیں ہاتھ مل مل کے

چھوڑئیے اب طواف کعبہ کا

دیر کی گرد ڈھونڈھئے چل کے

Sunday, 16 January 2022

قاصد ترے بار بار آئے

 قاصد تِرے بار بار آئے

ایک ہفتہ میں تین چار آئے

قاتل پہ جو سر کو وار آئے

بارِِ تنِ زار اتار آئے

آشفتگی ہو نصیب دشمن

تم زلف نہ کیوں سنوار آئے

Tuesday, 4 January 2022

پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا

 پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا

دل تو تھا ہی نہیں چُراتے کیا

ہجر میں غم بھی ایک نعمت ہے

یہ نہ ہوتا تو آج کھاتے کیا

مرغ دل ہی کا کچھ رہا مذکورہ

اور بے پر کی واں اڑاتے کیا

Monday, 3 January 2022

دل اسے دے دیا سخی ہی تو ہے

 دل اسے دے دیا سخی ہی تو ہے

مرحبا، پرورشِ علی ہی تو ہے

دل دیا ہے دلاوری ہی تو ہے

جان بھی اس کو دیں گے جی ہی تو ہے

کیوں حسینوں کی آنکھ سے نہ لڑے

میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے

Thursday, 10 June 2021

عشق ہے یار کا خدا حافظ

 عشق ہے یار کا خدا حافظ

امر دشوار کا خدا حافظ

پیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو

زلفِ خمدار کا خدا حافظ

سر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں

میری دیوار کا خدا حافظ