عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ
سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ
یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے
آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ
اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر
میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ
عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ
سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ
یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے
آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ
اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر
میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ
گھر میں ساقیٔ مست کے چل کے
آج ساغر شراب کا چھلکے
سوگ میں میرے مہندی کے بدلے
لال کرتے ہیں ہاتھ مل مل کے
چھوڑئیے اب طواف کعبہ کا
دیر کی گرد ڈھونڈھئے چل کے
قاصد تِرے بار بار آئے
ایک ہفتہ میں تین چار آئے
قاتل پہ جو سر کو وار آئے
بارِِ تنِ زار اتار آئے
آشفتگی ہو نصیب دشمن
تم زلف نہ کیوں سنوار آئے
پہلو میں بیٹھ کر وہ پاتے کیا
دل تو تھا ہی نہیں چُراتے کیا
ہجر میں غم بھی ایک نعمت ہے
یہ نہ ہوتا تو آج کھاتے کیا
مرغ دل ہی کا کچھ رہا مذکورہ
اور بے پر کی واں اڑاتے کیا
دل اسے دے دیا سخی ہی تو ہے
مرحبا، پرورشِ علی ہی تو ہے
دل دیا ہے دلاوری ہی تو ہے
جان بھی اس کو دیں گے جی ہی تو ہے
کیوں حسینوں کی آنکھ سے نہ لڑے
میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے
عشق ہے یار کا خدا حافظ
امر دشوار کا خدا حافظ
پیچ مجھ پر پڑے جو پڑنا ہو
زلفِ خمدار کا خدا حافظ
سر جو ٹکراتا ہوں تو کہتے ہیں
میری دیوار کا خدا حافظ