Thursday, 17 March 2022

عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

 عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخ

سیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخ

یہ بھی شوخی نئی نکالی ہے

آج دشمن سے کچھ خفا ہے شوخ

اپنی آنکھوں میں رات دن رکھ کر

میں نے خود اس کو کر دیا ہے شوخ

اشک خوں میرے دیکھ کر بولے

اس سے تو کچھ مِری حنا ہے شوخ

آنکھ سے گر کے گود میں مچلا

طفل اشک ایسا ہو گیا ہے شوخ

بوسہ ہر وقت رخ کا لیتا ہے

کس قدر گیسوئے دوتا ہے شوخ

چھیڑتی ہے تمہارے زلفوں کو

کس بلا کی مگر صبا ہے شوخ

بر میں آئینہ کے لیا نہ قرار

جان من عکس بھی ترا ہے شوخ

پھر گئی دور سے دکھا کے جھلک

ہجر میں اے سخی قضا ہے شوخ


سخی لکھنوی

No comments:

Post a Comment