برسات کی گھٹا سے رونق لگی ہوئی ہے
صرصر میں اب صبا سے رونق لگی ہوئی ہے
سوکھے ہوئے شجر پر پھل پھول آ رہے ہیں
ماں کی ہری دعا سے رونق لگی ہوئی ہے
اس شخص سے ہوا ہے گھر پرفیوم جیسا
مہمانِ خوش نما سے رونق لگی ہوئی ہے
چلتے ہوئے مسافر رک رک کے دیکھتے ہیں
میری پھٹی قبا سے رونق لگی ہوئی ہے
کچھ کھل گئے دریچے کچھ در بھی وا ہوئے ہیں
درویش کی صدا سے رونق لگی ہوئی ہے
کچھ رزق میرے گھر کا کچھ بھوکے کھا رہے ہیں
مالک ! تری عطا سے رونق لگی ہوئی ہے
وہ یاد آ رہا ہے کیا شعر ہو رہے ہیں
اس یار بے وفا سے رونق لگی ہوئی ہے
کاشف ظریف
No comments:
Post a Comment