قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی
اب عدل ہے بکواس تو انصاف ہے گالی
اِس دور نے لفظوں کے بدل ڈالے معانی
نیکی ہے تجارت تو شرافت ہے دلالی
جسموں سے اتر جاتی ہیں دفتر کی تکانیں
میزوں پہ سرِ شام ہنسے چائے کی پیالی
قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی
اب عدل ہے بکواس تو انصاف ہے گالی
اِس دور نے لفظوں کے بدل ڈالے معانی
نیکی ہے تجارت تو شرافت ہے دلالی
جسموں سے اتر جاتی ہیں دفتر کی تکانیں
میزوں پہ سرِ شام ہنسے چائے کی پیالی
سکوں تمہیں بھی نہیں ہم کو بھی قرار نہیں
کہ رنگِ موسم گل اب کے سازگار نہیں
ابھی نہ ساز طرب پر کوئی غزل چھیڑو
ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
کہاں کہاں سے سنا ئیں حدیثِ دیدہ و دل
حساب درد نہیں،۔ زخم کا شمار نہیں
شہر کی بھیڑ میں خود کو کبھی تنہا کرنا
اپنے ہونے کا نہ ہونے کا تماشا کرنا
میں بھی دیکھوں تِری آنکھوں کی فسوں اندازی
اک ذرا میری طرف بھی رخِ زیبا کرنا
کشتئ عمررواں حلقۂ گرداب میں ہے
حوصلہ پھر بھی ہے موجوں کو کنارا کرنا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
دیارِ قُدسِ وفا میں حسینؑ کی خوشبو
رضائے حکم خدا میں حسین کی خوشبو
قبولیت کے گلوں کو سمیٹ لاتی ہے
ہتھیلیوں کی دعا میں حسین کی خوشبو
کبھی وہ گود میں کھیلیں وہ دوش پر بیٹھیں
نبیﷺ کی بوئے قبا میں حسین کی خوشبو
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
مشکل پڑی تو میں نے اٹھائے دعا کو ہاتھ
اب میری آبرو ہے رسول خداﷺ کے ہاتھ
کوئی بڑا نہ چھوٹا تِری بارگاہ میں
یکساں تِری نظرمیں ہیں شاہ و گدا کے ہاتھ
میری طرف بھی ایک نگاہ کرم حضور
پھیلے ہوئے ہیں دیر سے اک با وفا کے ہاتھ
کچھ نہیں تھا مختلف رنگوں کا جب امکان تھا
میں بھی تھا بنجر بہت وہ بھی بہت ویران تھا
سب سمندر میں اتر آئے تھے ساحل چھوڑ کر
کون ڈوبا کتنے پانی میں؟ ہر اک انجان تھا
آگ تھی میرا مقدر، اور پانی کے لیے
میں سرابوں کے تعاقب میں بہت ہلکان تھا
مسیحائی
میں نے دیکھا ہے تجھ کو اکثر یوں
خوبصورت سی تیری آنکھوں میں
سُرمئ شام کی اداسی ہے
رُخ پہ گردِ ملال کی صورت
اک پریشاں خیال کی صورت
جانے کس نام کی اُداسی ہے
وہ اور ایک منظر
جھیل آنکھیں تِری، شفق عارض
شام کا نیلگوں حسیں منظر
اور ایسے میں تُو جو بر سرِ بام
بے حجابانہ جلوہ گر ہو جائے
شوخ و چنچل ہوا کا نازک ہاتھ
تیری زلفوں کی کوئی لٹ چھٹکائے
جانے کیسا دکھ ہوتا ہے
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے
شدتِ غم سے دل روتا ہے
پلکوں کی وِیران ڈگر پر
اشکوں کے انجان مسافر
جن کا کچھ آغاز نہ آخر
بُھولے بھٹکے آ جاتے ہیں