Showing posts with label انس مسرور. Show all posts
Showing posts with label انس مسرور. Show all posts

Thursday, 4 December 2025

قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی

 قاتل سے بھی منصف نے رہ و رسم بڑھا لی

اب عدل ہے بکواس تو انصاف ہے گالی

اِس دور نے لفظوں کے بدل ڈالے معانی

نیکی ہے تجارت تو شرافت ہے دلالی 

جسموں سے اتر جاتی ہیں دفتر کی تکانیں

میزوں پہ سرِ شام ہنسے چائے کی پیالی

Saturday, 5 February 2022

سکوں تمہیں بھی نہیں ہم کو بھی قرار نہیں

 سکوں تمہیں بھی نہیں ہم کو بھی قرار نہیں

کہ رنگِ موسم گل اب کے سازگار نہیں 

ابھی نہ ساز طرب پر کوئی غزل چھیڑو

ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں 

کہاں کہاں سے سنا ئیں حدیثِ دیدہ و دل

حساب درد نہیں،۔ زخم کا شمار نہیں 

Saturday, 11 September 2021

شہر کی بھیڑ میں خود کو کبھی تنہا کرنا

 شہر کی بھیڑ میں خود کو کبھی تنہا کرنا

اپنے ہونے کا نہ ہونے کا تماشا کرنا

میں بھی دیکھوں تِری آنکھوں کی فسوں اندازی

اک ذرا میری طرف بھی رخِ زیبا کرنا

کشتئ عمررواں حلقۂ گرداب میں ہے

حوصلہ پھر بھی ہے موجوں کو کنارا کرنا

Sunday, 5 September 2021

دیار قدس وفا میں حسین کی خوشبو

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


دیارِ قُدسِ وفا میں حسینؑ کی خوشبو

رضائے حکم خدا میں حسین کی خوشبو

قبولیت کے گلوں کو سمیٹ لاتی ہے

ہتھیلیوں کی دعا میں حسین کی خوشبو

کبھی وہ گود میں کھیلیں وہ دوش پر بیٹھیں

نبیﷺ کی بوئے قبا میں حسین کی خوشبو

Saturday, 4 September 2021

مشکل پڑی تو میں نے اٹھائے دعا کو ہاتھ

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


 مشکل پڑی تو میں نے اٹھائے دعا کو ہاتھ

اب میری آبرو ہے رسول خداﷺ کے ہاتھ

کوئی بڑا نہ چھوٹا تِری بارگاہ میں

یکساں تِری نظرمیں ہیں شاہ و گدا کے ہاتھ

میری طرف بھی ایک نگاہ کرم حضور

پھیلے ہوئے ہیں دیر سے اک با وفا کے ہاتھ

Tuesday, 31 August 2021

کچھ نہیں تھا مختلف رنگوں کا جب امکان تھا

 کچھ نہیں تھا مختلف رنگوں کا جب امکان تھا

میں بھی تھا بنجر بہت وہ بھی بہت ویران تھا

سب سمندر میں اتر آئے تھے ساحل چھوڑ کر

کون ڈوبا کتنے پانی میں؟ ہر اک انجان تھا

آگ تھی میرا مقدر، اور پانی کے لیے

میں سرابوں کے تعاقب میں بہت ہلکان تھا

Sunday, 29 August 2021

میں نے دیکھا ہے تجھ کو اکثر یوں

 مسیحائی


میں نے دیکھا ہے تجھ کو اکثر یوں

خوبصورت سی تیری آنکھوں میں

سُرمئ شام کی اداسی ہے

رُخ پہ گردِ ملال کی صورت

اک پریشاں خیال کی صورت

جانے کس نام کی اُداسی ہے

جھیل آنکھیں تری شفق عارض

 وہ اور ایک منظر


جھیل آنکھیں تِری، شفق عارض

شام کا نیلگوں حسیں منظر

اور ایسے میں تُو جو بر سرِ بام

بے حجابانہ جلوہ گر ہو جائے

شوخ و چنچل ہوا کا نازک ہاتھ

تیری زلفوں کی کوئی لٹ چھٹکائے

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے

 جانے کیسا دکھ ہوتا ہے


کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے

شدتِ غم سے دل روتا ہے

پلکوں کی وِیران ڈگر پر

اشکوں کے انجان مسافر

جن کا کچھ آغاز نہ آخر

بُھولے بھٹکے آ جاتے ہیں