Saturday, 11 September 2021

شہر کی بھیڑ میں خود کو کبھی تنہا کرنا

 شہر کی بھیڑ میں خود کو کبھی تنہا کرنا

اپنے ہونے کا نہ ہونے کا تماشا کرنا

میں بھی دیکھوں تِری آنکھوں کی فسوں اندازی

اک ذرا میری طرف بھی رخِ زیبا کرنا

کشتئ عمررواں حلقۂ گرداب میں ہے

حوصلہ پھر بھی ہے موجوں کو کنارا کرنا

یہ اجالے تو سبب ہیں مِری رُسوائی کا

روشنی آنکھ میں چُبھتی ہے، اندھیرا کرنا

میرے خوابوں کو سلیقے سے ہنر آتا ہے

رنگ تصویر کا تصویر سے گہرا کرنا

فرصت یک نفس جاں بھی نہیں ہے مسرور

پھر بھی آتا ہے ہمیں قطرے کو دریا کرنا


انس مسرور

No comments:

Post a Comment