Saturday, 11 September 2021

وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے

 وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے

قسم خدا کی بہت خوف آنے لگتا ہے

میں بھول جاتی ہوں چاہت میں ہر ستم اس کا

مِرے حواس پہ وہ جب بھی چھانے لگتا ہے

سمٹتا جاتا ہے میرا وجود سنگ اس کے

وہ میری روح میں ایسے سمانے لگتا ہے

اسے یہ ضد ہے کہ میں اس کی دسترس میں رہوں

وہ دور ہو کے مجھے آزمانے لگتا ہے

میں اس کی یاد میں جب شعر کوئی کہتی ہوں

ہر ایک لفظ مِرا گنگنانے لگتا ہے

خیال اس کا مجھے بخشتا ہے یوں راحت

کہ غم میں بھی مِرا من مسکرانے لگتا ہے


راحت زاہد

No comments:

Post a Comment