وہ جب بھی مجھ سے محبت جتانے لگتا ہے
قسم خدا کی بہت خوف آنے لگتا ہے
میں بھول جاتی ہوں چاہت میں ہر ستم اس کا
مِرے حواس پہ وہ جب بھی چھانے لگتا ہے
سمٹتا جاتا ہے میرا وجود سنگ اس کے
وہ میری روح میں ایسے سمانے لگتا ہے
اسے یہ ضد ہے کہ میں اس کی دسترس میں رہوں
وہ دور ہو کے مجھے آزمانے لگتا ہے
میں اس کی یاد میں جب شعر کوئی کہتی ہوں
ہر ایک لفظ مِرا گنگنانے لگتا ہے
خیال اس کا مجھے بخشتا ہے یوں راحت
کہ غم میں بھی مِرا من مسکرانے لگتا ہے
راحت زاہد
No comments:
Post a Comment