Showing posts with label کلیم ساکن. Show all posts
Showing posts with label کلیم ساکن. Show all posts

Monday, 3 August 2026

محبت اس لئے چھپائی گئی

 مُحبت اس لیے چھُپائی گئی

کہ پگڑی درمیان لائی گئی

دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں

ایک عزت ہے بچائی گئی

محبت رزق تھی میرے لیے

عُمر بھر کی کمائی گئی

Wednesday, 19 February 2025

اپنے حقوق پر ہی نہیں ہے جو اختیار

 اپنے حقوق پر ہی نہیں ہے جو اختیار

ایسے نظامِ عدل پہ لعنت ہو بے شمار

اپنے پڑوس دیکھ، کسی کو نہ دیکھ یار

قابض نہیں ہوتے ہیں وہاں لوگ تین چار

آواز بھی اٹھاؤں تو کس کو سنے حضور

ہے چور بھی یہاں پہ ہمارا ہی چوکیدار

Friday, 14 June 2024

ہے سب کو یہاں پر ملا تیرے صدقے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے سب کو یہاں پر ملا تیرےؐ صدقے

کہ زندہ ہے ہر اک گدا تیرےؐ صدقے

ہمیں کب خبر تھی کہ مالک ہے کوئی

عیاں ہو گیا ہے خدا تیرےؐ صدقے

علؓی ہیں حسؓن ہیں حسینی ہے عالَم

ہے پنجتن گھرانہ سجا تیرےؐ صدقے

Thursday, 1 April 2021

ساکن کس قدر گراں گزری ہے

 ساکن کس قدر گِراں گُزری ہے

زندگی مسلسل امتحاں گزری ہے

اک یہی وجہ ہے بس جینے کی

کہ ابھی مکمل کہاں گزری ہے

میرے نام سے پُکارا گیا کسی کو

سامنے سے میری پہچان گزری ہے

Tuesday, 30 March 2021

کتنے لوگوں سے لگایا دل تم نے

 کتنے لوگوں سے لگایا دل تم نے

ہوئی ہے اذیت کسی کے جانے سے

خزانہ ملا ہے یا گھر ٹوٹا ہے

خبر یہ ملے گی دیوار گرانے سے

پہلے تو میسر تھا تجھے مفت میں

اب موت پڑ رہی ہے نا کمانے سے