مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
اپنے حقوق پر ہی نہیں ہے جو اختیار
ایسے نظامِ عدل پہ لعنت ہو بے شمار
اپنے پڑوس دیکھ، کسی کو نہ دیکھ یار
قابض نہیں ہوتے ہیں وہاں لوگ تین چار
آواز بھی اٹھاؤں تو کس کو سنے حضور
ہے چور بھی یہاں پہ ہمارا ہی چوکیدار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے سب کو یہاں پر ملا تیرےؐ صدقے
کہ زندہ ہے ہر اک گدا تیرےؐ صدقے
ہمیں کب خبر تھی کہ مالک ہے کوئی
عیاں ہو گیا ہے خدا تیرےؐ صدقے
علؓی ہیں حسؓن ہیں حسینی ہے عالَم
ہے پنجتن گھرانہ سجا تیرےؐ صدقے
ساکن کس قدر گِراں گُزری ہے
زندگی مسلسل امتحاں گزری ہے
اک یہی وجہ ہے بس جینے کی
کہ ابھی مکمل کہاں گزری ہے
میرے نام سے پُکارا گیا کسی کو
سامنے سے میری پہچان گزری ہے
کتنے لوگوں سے لگایا دل تم نے
ہوئی ہے اذیت کسی کے جانے سے
خزانہ ملا ہے یا گھر ٹوٹا ہے
خبر یہ ملے گی دیوار گرانے سے
پہلے تو میسر تھا تجھے مفت میں
اب موت پڑ رہی ہے نا کمانے سے