گڈ نائٹ
نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہے
امید نے دامن جھٹک کر
دہلیز پر اونگھتی ہوئی آنکھوں کے ہاتھ زخمی کر دئیے ہیں
انتظار
اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے
گڈ نائٹ
نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہے
امید نے دامن جھٹک کر
دہلیز پر اونگھتی ہوئی آنکھوں کے ہاتھ زخمی کر دئیے ہیں
انتظار
اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے
خواب
چلو اچھا کیا تم نے
ہمیں
خوابوں کی دنیا سے
ہمیشہ دور ہی رکھا
سنا ہے
خواب کے تعبیر میں تحلیل ہونے سے ذرا پہلے
صدائیں کون سنتا ہے
صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں
کوئی آواز دیتا ہے
پسِ دیوار
اک بڑھیا
پرانے عاشقوں کے نام لیتی ہے
ملبہ
میں بچپن میں
سبھی دکھ
گھر کی دیواروں پہ لکھ دینے کا عادی تھا
مگر پردیس میں آ کر
میں اپنے گھر کی دیواروں پہ روشن
سب دکھوں کو بھول بیٹھا ہوں
بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا
جو ہے سچا وہ ڈر نہیں سکتا
جسم دنیا بھلے ہی دفنا دے
پیار زندہ ہے مر نہیں سکتا
بھوک میں صرف چاہیۓ روٹی
پیٹ باتوں سے بھر نہیں سکتا
اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے
ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے
میں اٹھا تو کون ہونٹوں سے لگائے گا انہیں
مدتوں ڈھونڈا کریں گے جام و پیمانہ مجھے
یہ محبت کا اثر ہے یا مِرا دیوانہ پن
صحن گلشن سا نظر آتا ہے ویرانہ مجھے
پُرسہ
خدا کو لکھے گئے خط میں
میں نے اپنے دُکھوں کی تفصیل نہیں لکھی
کیونکہ خدا
ہر شے سے بے نیاز
دنیا کی بساط پر نت نئے کھیل کھیل رہا ہے
اور تنہائی کا دُکھ جھیل رہا ہے
ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے
جب بھی ملے کسی سے تو دل میں اتر گئے
ظلم و ستم کے آگے کبھی جو جھکے نہیں
ان کے نصیب ان کے مقدر سنور گئے
کردار بیچ دینے کا انجام یہ ہوا
دل میں اترنے والے نظر سے اتر گئے
اپنے حصے میں کبھی سُود و زیاں کرتے ہوئے
روز پیتا ہوں غمِ دل کو دَواں کرتے ہوئے
اب وہیں آتی ہے وہ، پھُول پُرانے لے کر
اس نے دیکھا تھا مجھے بَین جہاں کرتے ہوئے
اب یہ لگتا ہے وقت ہی زیاں کیا ہم نے
اس کی قُربت میں کٹے لمحے جمع کرتے ہوئے
مکالمہ
تمہیں محبت کرنے کے جُرم میں سزائے موت دی جاتی ہے
اُس نے سگریٹ کا طویل کش لیتے ہوئے
یہ جملہ
دُھویں کے ساتھ ہوا میں اُچھالا
اور خُود کشی کر لی