Showing posts with label علی ساحل. Show all posts
Showing posts with label علی ساحل. Show all posts

Sunday, 19 June 2022

نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہے

 گڈ نائٹ


نیند میرے اعصاب پہ سوار ہو چکی ہے

امید نے دامن جھٹک کر

دہلیز پر اونگھتی ہوئی آنکھوں کے ہاتھ زخمی کر دئیے ہیں

انتظار

اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے

Saturday, 16 October 2021

خواب چلو اچھا کیا تم نے

 خواب


چلو اچھا کیا تم نے

ہمیں

خوابوں کی دنیا سے

ہمیشہ دور ہی رکھا

سنا ہے

خواب کے تعبیر میں تحلیل ہونے سے ذرا پہلے

Monday, 11 October 2021

صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں

 صدائیں کون سنتا ہے


صدائیں گونجتی رہتی ہیں گلیوں میں

کوئی آواز دیتا ہے

پسِ دیوار

اک بڑھیا

پرانے عاشقوں کے نام لیتی ہے

تحریر کا ملبہ

 ملبہ


میں بچپن میں

سبھی دکھ

گھر کی دیواروں پہ لکھ دینے کا عادی تھا

مگر پردیس میں آ کر

میں اپنے گھر کی دیواروں پہ روشن

سب دکھوں کو بھول بیٹھا ہوں

Sunday, 26 September 2021

بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا

 بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا

جو ہے سچا وہ ڈر نہیں سکتا

جسم دنیا بھلے ہی دفنا دے

پیار زندہ ہے مر نہیں سکتا

بھوک میں صرف چاہیۓ روٹی

پیٹ باتوں سے بھر نہیں سکتا

Monday, 26 July 2021

اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے

 اب حقیقت لگ رہا ہے میرا افسانہ مجھے

ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے

میں اٹھا تو کون ہونٹوں سے لگائے گا انہیں

مدتوں ڈھونڈا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

یہ محبت کا اثر ہے یا مِرا دیوانہ پن

صحن گلشن سا نظر آتا ہے ویرانہ مجھے

Sunday, 25 July 2021

خدا کو لکھے گئے خط میں

 پُرسہ


خدا کو لکھے گئے خط میں 

میں نے اپنے دُکھوں کی تفصیل نہیں لکھی 

کیونکہ خدا 

ہر شے سے بے نیاز 

دنیا کی بساط پر نت نئے کھیل کھیل رہا ہے 

اور تنہائی کا دُکھ جھیل رہا ہے

Saturday, 24 July 2021

ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے

 ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے

جب بھی ملے کسی سے تو دل میں اتر گئے

ظلم و ستم کے آگے کبھی جو جھکے نہیں

ان کے نصیب ان کے مقدر سنور گئے

کردار بیچ دینے کا انجام یہ ہوا

دل میں اترنے والے نظر سے اتر گئے

Sunday, 28 March 2021

اپنے حصے میں کبھی سود و زیاں کرتے ہوئے

 اپنے حصے میں کبھی سُود و زیاں کرتے ہوئے

روز پیتا ہوں غمِ دل کو دَواں کرتے ہوئے

اب وہیں آتی ہے وہ، پھُول پُرانے لے کر

اس نے دیکھا تھا مجھے بَین جہاں کرتے ہوئے

اب یہ لگتا ہے وقت ہی زیاں کیا ہم نے

اس کی قُربت میں کٹے لمحے جمع کرتے ہوئے

Monday, 15 March 2021

تمہیں محبت کرنے کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے

 مکالمہ


تمہیں محبت کرنے کے جُرم میں سزائے موت دی جاتی ہے

اُس نے سگریٹ کا طویل کش لیتے ہوئے

یہ جملہ

دُھویں کے ساتھ ہوا میں اُچھالا

اور خُود کشی کر لی