جو مجھ سے اس نے منہ موڑا تو چھوڑا
وہ جب خود میں ہوا چوڑا تو چھوڑا
جو باہم پیار تھا کم کرتے کرتے
کیا اس نے بہت تھوڑا تو چھوڑا
کسی کے ہو گئے ہم ہو گئے ہم
کسی کو ہم نے جب چھوڑا تو چھوڑا
جو مجھ سے اس نے منہ موڑا تو چھوڑا
وہ جب خود میں ہوا چوڑا تو چھوڑا
جو باہم پیار تھا کم کرتے کرتے
کیا اس نے بہت تھوڑا تو چھوڑا
کسی کے ہو گئے ہم ہو گئے ہم
کسی کو ہم نے جب چھوڑا تو چھوڑا
خاموش ہے جو شخص وہ جب بول پڑے گا
جو تم نے کیا، بزم میں سب بول پڑے گا
ہم سادہ مزاجوں کو ہنسی تیری ہنسی ہے
وہ تیری ہنسی کو بھی غضب بول پڑے گا
وہ جھوٹ بھی بولے گا تو ایمان و یقیں سے
شب روز کو وہ روز کو شب بول پڑے گا
یونہی دل بے تاب کوئی رات مچل جائے
اور اس پہ میرا زعم کہ تُو ساتھ مچل جائے
وہ دن بھی دکھائیں گے زمانے کے حوادث
بجلی کی چمک دیکھ کے برسات مچل جائے
دنیا میں کہاں کون بھلا میرے سوا ہے
جو کھا کے محبت میں بڑی گھات مچل جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ دھوپ ہوا ابر گھٹا جھوم رہی ہے
رقصاں ہے کرن باد صبا جھوم رہی ہے
ہونٹوں پہ مسرت کی دعا جھوم رہی ہے
عالم میں کوئی بگڑی ہوئی بات بھی ہے
وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے
باعثِ تکلیف ہے گر چاند، تارا درد ہے
دیکھیے دل کی نظر سے ہر نظارا درد ہے
درد یوں اٹھا سراپے میں مِرے اک مار سے
یوں لگا جیسے کسی نے مجھ پہ مارا درد ہے
اس کے ہونے سے وہ ہوتا ہے ہمارے رو برو
اس لیے ہم کو ہمیشہ سے گوارا درد ہے