Showing posts with label احسان علی دانش. Show all posts
Showing posts with label احسان علی دانش. Show all posts

Friday, 7 July 2023

جو مجھ سے اس نے منہ موڑا تو چھوڑا

 جو مجھ سے اس نے  منہ موڑا تو چھوڑا

وہ جب خود میں ہوا چوڑا تو چھوڑا

جو باہم  پیار تھا کم  کرتے کرتے

کیا اس نے بہت تھوڑا تو چھوڑا

کسی کے ہو گئے ہم ہو گئے ہم

کسی کو ہم نے جب چھوڑا تو چھوڑا

Monday, 26 June 2023

خاموش ہے جو شخص وہ جب بول پڑے گا

 خاموش ہے جو شخص وہ جب بول پڑے گا

جو تم نے کیا، بزم میں سب بول پڑے گا

ہم سادہ مزاجوں کو ہنسی تیری ہنسی ہے

وہ تیری ہنسی کو بھی غضب بول پڑے گا

وہ جھوٹ بھی بولے گا تو ایمان و یقیں سے

شب روز کو وہ روز کو شب بول پڑے گا

Tuesday, 20 June 2023

یونہی دل بیتاب کوئی رات مچل جائے

 یونہی دل بے تاب کوئی رات مچل جائے

اور اس پہ میرا زعم کہ تُو ساتھ مچل جائے

وہ دن بھی دکھائیں گے زمانے کے حوادث

بجلی کی چمک دیکھ کے برسات مچل جائے

دنیا میں کہاں کون بھلا میرے سوا ہے

جو کھا کے محبت میں بڑی گھات مچل جائے

Sunday, 11 June 2023

یہ دھوپ ہوا ابر گھٹا جھوم رہی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ دھوپ ہوا ابر گھٹا جھوم رہی ہے

رقصاں ہے کرن باد صبا جھوم رہی ہے

ہونٹوں پہ مسرت کی دعا جھوم رہی ہے

عالم میں کوئی بگڑی ہوئی بات بھی ہے

وہ فاطمہؑ کا لال حسینؑ ابن علیؑ ہے

باعث تکلیف ہے گر چاند تارا درد ہے

 باعثِ تکلیف ہے گر چاند، تارا درد ہے

دیکھیے دل کی نظر سے ہر نظارا درد ہے

درد یوں اٹھا سراپے میں مِرے اک مار سے

یوں لگا جیسے کسی نے مجھ پہ مارا درد ہے

اس کے ہونے سے وہ ہوتا ہے ہمارے رو برو

اس لیے ہم کو ہمیشہ سے گوارا درد ہے