Sunday, 11 June 2023

باعث تکلیف ہے گر چاند تارا درد ہے

 باعثِ تکلیف ہے گر چاند، تارا درد ہے

دیکھیے دل کی نظر سے ہر نظارا درد ہے

درد یوں اٹھا سراپے میں مِرے اک مار سے

یوں لگا جیسے کسی نے مجھ پہ مارا درد ہے

اس کے ہونے سے وہ ہوتا ہے ہمارے رو برو

اس لیے ہم کو ہمیشہ سے گوارا درد ہے

بے بسی میں یہ عطا کرتا ہے جینے کی امنگ

یار! ہم سا بے سہاروں کا سہارا درد ہے

ایک یہ بھی ہے کہ لب تیرے تبسم آفریں

ایک یہ بھی ہے کہ نظروں کا اشارا درد ہے

اس لیے ہو لطف درد عشق سے تم بے خبر

جو ہمارا درد ہے، وہ بھی تمہارا درد ہے

وقت ہجراں ہو کہ وصل منزلِ راہِ وفا

زاد راہ عشق میں سارے کا سارا درد ہے

قلزمِ الفت کے طوفانوں میں ملتا ہے سکوں

اور طوفاں میں ملے جس کو کنارا درد ہے

یہ عطائے عشق ہے جس کے لیے بھی بخش دے

وہ بتائے گا جہاں میں کتنا پیارا درد ہے

پیار کی سرمستیوں کے ضمن میں دانش میاں

رب نے بھی پہلے پہل شاید اتارا درد ہے


احسان علی دانش

No comments:

Post a Comment