وہ جُنون و شوقِ سفر گیا وہ صدائے دل کا اثر گیا
وہ جو قیس تھا سو بھی گھر گیا کہ اک اور سال گُزر گیا
کہیں بے دلی کےعذاب میں کہیں رنجشوں کے حساب میں
وہ جو خواب تھا سو بِکھر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
جو تھیں منزلیں سو کھڑی رہیں جو تھے راستے سو پڑے رہے
جو متاعِ جاں تھا ہُنر گیا، کہ اک اور سال گزر گیا
جو تھا نالہ، نالۂ نیم شب، وہ درونِ ذات پڑا رہا
جو تھا پردہ دل کا اُتر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
وہ جو بارشیں تھی سو تھم گئیں وہ جو کشتیاں تھیں نہیں رہی
وہ جو بچپنا تھا کدھر گیا، کہ اک اورسال گزر گیا
مِری زندگی تِری چوٹ سے تِرے جعل سے تِرے کھوٹ سے
یہ اک اور شخص سُدھر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
اے جہان! تیری وہ رونقیں تیری چاشنی تو رہی نہیں
کہ یہاں کا حُسن اُدھر گیا، کہ اک اور سال گزر گیا
جو تھی چشمِ تر سو نہیں رہی، جو تھا نرم دل سو نہیں رہا
کہ زماں سے حُسنِ نظر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
جو ادب تھا ماں کا نہیں رہا، وہ مقامِ پدر بھی کھو گیا
وہ جو حسنِ خُلق تھا مر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
کہ محبتوں میں خلوص کو بھی ضروری سمجھا نہیں گیا
جو ہوس کا جی تھا سو بھر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
تِرے ہجر نے کئی راستوں کئی منزلوں سے ملا دیا
یہ انا کا زنگ اُتر گیا، کہ اک اور سال گزر گیا
مجھے اپنی جان کا عہد تھا تِرے واسطے میں اس عہد سے
مرے شخص دیکھ مُکر گیا کہ اک اور سال گزر گیا
کہ جہانِ جہل و فریب میں یہ صدائے حق بھی تو قاسمی
مِرا کام تھا سو میں کر گیا، کہ اک اور سال گزر گیا
حسنین قاسمی
No comments:
Post a Comment