باعثِ حسرت و آزار نہیں ہو سکتے
ہم تری راہ کی دیوار نہیں ہو سکتے
زندگی خواب ہے، بے بس ہیں تماشائی سب
لاکھ چاہیں بھی تو بیدار نہیں ہو سکتے
ہم اسیرانِ غمِ ہست ہیں پابندِ وفا
سو تمنا میں گرفتار نہیں ہو سکتے
باعثِ حسرت و آزار نہیں ہو سکتے
ہم تری راہ کی دیوار نہیں ہو سکتے
زندگی خواب ہے، بے بس ہیں تماشائی سب
لاکھ چاہیں بھی تو بیدار نہیں ہو سکتے
ہم اسیرانِ غمِ ہست ہیں پابندِ وفا
سو تمنا میں گرفتار نہیں ہو سکتے
ناز اُٹھانے سے رہے، حال سنانے سے رہے
تیری آواز پہ ہم دوڑ کے آنے سے رہے
ہم نے تصدیق کی، تردید کی، زحمت نہیں کی
خلق میں ورنہ مرے تیرے فسانے سے رہے
یوں نہیں ہے کہ تِرے بعد نہیں زخم ملے
سرسری کہنے پہ ہم، یار، دکھانے سے رہے
یہ مسئلہ رہا ہے ذرا دل حضوُر کا
دِکھتا تھا صاف صاف جو منظر تھا دُور کا
عورت کو دیکھیۓ کبھی اندر کی آنکھ سے
پھر تذکرہ کریں گے پلٹ کر نہ حُور کا
جس کا ہے اختیار، سزا بھی اُسی کی ہو
اُلجھا ہوا سوال نہیں یاں قصور کا
ہُوا ہے بادباں ہے کُوچ کرنے کا اشارا ہے
سرِ ساحل کسی نے آ کے چُپکے سے پُکارا ہے
میں اس کی روشنی میں راستہ کیا ڈھونڈ سکتی ہوں
گہے جلتا، گہے بُجھتا مِری قسمت کا تارا ہے
ہمیں مثلِ صدف جب ذات میں اپنی ہی رہنا ہے
تو پھر کیا فرق پڑتا ہے بھنور ہے یا کنارا ہے