Showing posts with label نمرہ شکیل. Show all posts
Showing posts with label نمرہ شکیل. Show all posts

Friday, 9 February 2024

باعث حسرت و آزار نہیں ہو سکتے

 باعثِ حسرت و آزار نہیں ہو سکتے

ہم تری راہ کی دیوار نہیں ہو سکتے

زندگی خواب ہے، بے بس ہیں تماشائی سب

لاکھ چاہیں بھی تو بیدار نہیں ہو سکتے

ہم اسیرانِ غمِ ہست ہیں پابندِ وفا

سو تمنا میں گرفتار نہیں ہو سکتے

Sunday, 24 December 2023

ناز اٹھانے سے رہے حال سنانے سے رہے

 ناز اُٹھانے سے رہے، حال سنانے سے رہے

تیری آواز پہ ہم دوڑ کے آنے سے رہے

ہم نے تصدیق کی، تردید کی، زحمت نہیں کی

خلق میں ورنہ مرے تیرے فسانے سے رہے

یوں نہیں ہے کہ تِرے بعد نہیں زخم ملے

سرسری کہنے پہ ہم، یار، دکھانے سے رہے

Wednesday, 20 December 2023

یہ مسئلہ رہا ہے ذرا دل حضور کا

 یہ مسئلہ رہا ہے ذرا دل حضوُر کا

دِکھتا تھا صاف صاف جو منظر تھا دُور کا

عورت کو دیکھیۓ کبھی اندر کی آنکھ سے

پھر تذکرہ کریں گے پلٹ کر نہ حُور کا

جس کا ہے اختیار، سزا بھی اُسی کی ہو

اُلجھا ہوا سوال نہیں یاں قصور کا

Tuesday, 28 March 2023

ہوا ہے بادباں ہے کوچ کرنے کا اشارا ہے

ہُوا ہے بادباں ہے کُوچ کرنے کا اشارا ہے

سرِ ساحل کسی نے آ کے چُپکے سے پُکارا ہے

میں اس کی روشنی میں راستہ کیا ڈھونڈ سکتی ہوں

گہے جلتا، گہے بُجھتا مِری قسمت کا تارا ہے

ہمیں مثلِ صدف جب ذات میں اپنی ہی رہنا ہے

تو پھر کیا فرق پڑتا ہے بھنور ہے یا کنارا ہے