Showing posts with label سید آل احمد. Show all posts
Showing posts with label سید آل احمد. Show all posts

Sunday, 3 March 2024

چھپے گی سامنے آ کر یہ خستہ حالی کیا

 چُھپے گی سامنے آ کر یہ خستہ حالی کیا

مِلے گا شہر میں ہم کو مکان خالی کیا

چھلک پڑے جو تمہیں دیکھ کر، بتاؤ مجھے

ان آنسوؤں نے مِری آبرو بچا لی کیا؟

یہ دھڑکنیں ہیں علامت، چُھپا ہوا تو نہیں

نظر کی اوٹ میں پیکر کوئی خیالی کیا

Friday, 8 April 2022

اندر کا ہر کرب چھپاتے پھرتے ہیں

 اندر کا ہر کرب چھپاتے پھرتے ہیں

ہم دیوانے لوگ ہنساتے پھرتے ہیں

چہرہ چہرہ ہر دل کی دیوار سے ہم

اپنے نام کے حرف مٹاتے پھرتے ہیں

شاخ سے ٹوٹ کے قریہ قریہ برگِ سبز

فصلِ بہار کا حال سناتے پھرتے ہیں

Saturday, 5 February 2022

پھر تقابل میں خجالت کے کھلونے آئے

 پھر تقابل میں خجالت کے کھلونے آئے

ہاتھ میں سنگ اٹھائے ہوئے بونے آئے

یوں تو اب بھی تِرے خط ڈاک میں مل جاتے ہیں

کوئی تحریر تو آنکھوں کو بھگونے آئے

اِس سے پہلے کہ کڑی دھوپ میں میلا ہو بدن

تُو اِسے لمس کی خوشبو سے بھی دھونے آئے

Thursday, 8 December 2016

دوش ہوا کے سات بہت دور تک گئی

دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی
خوشبو اُڑی تو رات بہت دور تک گئی
بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ
شب رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی
یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر
برقِ تبسمات بہت دور تک گئی

نگار شب ترا مہمان ہو رہا ہوں میں

نگارِ شب! تِرا مہمان ہو رہا ہوں میں
وفا میں کرب کی پہچان ہو رہا ہوں میں
کھرچ رہا ہوں گئے موسموں کی ہر نسبت
نئی رُتوں کا شبستان ہو رہا ہوں میں
محیطِ تیرہ شبی کو شگفتِ لب دے کر
طلوعِ صبح کا امکان ہو رہا ہوں میں

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے
تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے
تم جو میری بات سنے بِن چل دیتے
رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے
رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا
سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے

موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے

موسم کی طرح رنگ بدلتا بھی بہت ہے
ہمزاد مِرا قلب کا سادہ بھی بہت ہے
نفرت بھی محبت کی طرح کرتا ہے مجھ سے
وہ پیار بھی کرتا ہے، رلاتا بھی بہت ہے
وہ شخص بچھڑتا ہے تو برسوں نہیں ملتا
ملتا ہے تو پھر ٹوٹ کے ملتا بھی بہت ہے

Sunday, 6 April 2014

وہ بھی اٹھا کے سنگ ملامت اداس تھا

وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا
ہم کو بھی دوستی کے تقدس کا پاس تھا
ٹھوکر لگی تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے
اک سنگِ رہگزارِ وفا غرقِ یاس تھا
پگھلا دیا تھا روح کو دوری کی آنچ نے
تیرے دُکھوں کا رنگ بدن کا لباس تھا

تم مرا دکھ تر و تازہ نہیں رہنے دیتے

تم مِرا دُکھ تر و تازہ نہیں رہنے دیتے
دشت کو ابر تو پیاسا نہیں رہنے دیتے
واہمے نت نئی اشکال بنا لیتے ہیں
ورقِ دل کو بھی سادہ نہیں رہنے دیتے
کتنے بے رحم ہیں یہ ہاتھ کہ فصلِ گل میں
شجر سبز پہ پتا نہیں رہنے دیتے

حبس تنہائی نہ دے حبس میں کیا رکھا ہے

حبس تنہائی نہ دے حبس میں کیا رکھا ہے
دل سا انگارہ تو پہلے ہی بُجھا رکھا ہے
اے مِرے شہر کی بے رحم زمیں کچھ تو بتا
تُو نے ہر موڑ پہ کیوں سنگِ جفا رکھا ہے
اک تِرا دُکھ ہو تو چہرے پہ بکھیرا جائے
کتنے غم ہیں جنہیں سینے سے لگا رکھا ہے

نہ سہی پیار حقارت سے کبھی بول کے دیکھ

نہ سہی پیار، حقارت سے کبھی بول کے دیکھ
کوئی تو زہر مِری رُوح میں تُو گھول کے دیکھ
میری آواز کہاں تک تِری دیوار بنے
شدتِ کرب سے تو بھی تو کبھی بول کے دیکھ
اپنی تنہائی کے اس گھور اندھیرے سے نکل
کیا ہے باہر کی فضا آنکھ ذرا کھول کے دیکھ

دکھ کی دیوار تلے روح کو سستانے دو

دکھ کی دیوار تلے روح کو سستانے دو
یہ جو طوفاں سا امڈ آیا ہے، رک جانے دو
مدتوں بعد تو پلٹا ہے بدل کر ملبوس
گھر کا دروازہ کھلا رکھو، اسے آنے دو
وقت بیمار مسافر ہے، گزر جائے گا
رائیگاں ایک بھی لمحہ نہ کوئی جانے دو

Sunday, 24 March 2013

سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی

سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی
ملے ہیں زخم تِرے قُرب کی بہار سے بھی
متاعِ فقر بھی آئی نہ دستِ عجز کے ہاتھ
گریز پا ہی رہا، دولتِ وقار سے بھی
ہم اہل ِدل ہی نہ سمجھے، وفا کے منصب کو
ہوئی ہے ہم کو ندامت سِتم شعار سے بھی