چُھپے گی سامنے آ کر یہ خستہ حالی کیا
مِلے گا شہر میں ہم کو مکان خالی کیا
چھلک پڑے جو تمہیں دیکھ کر، بتاؤ مجھے
ان آنسوؤں نے مِری آبرو بچا لی کیا؟
یہ دھڑکنیں ہیں علامت، چُھپا ہوا تو نہیں
نظر کی اوٹ میں پیکر کوئی خیالی کیا
چُھپے گی سامنے آ کر یہ خستہ حالی کیا
مِلے گا شہر میں ہم کو مکان خالی کیا
چھلک پڑے جو تمہیں دیکھ کر، بتاؤ مجھے
ان آنسوؤں نے مِری آبرو بچا لی کیا؟
یہ دھڑکنیں ہیں علامت، چُھپا ہوا تو نہیں
نظر کی اوٹ میں پیکر کوئی خیالی کیا
اندر کا ہر کرب چھپاتے پھرتے ہیں
ہم دیوانے لوگ ہنساتے پھرتے ہیں
چہرہ چہرہ ہر دل کی دیوار سے ہم
اپنے نام کے حرف مٹاتے پھرتے ہیں
شاخ سے ٹوٹ کے قریہ قریہ برگِ سبز
فصلِ بہار کا حال سناتے پھرتے ہیں
پھر تقابل میں خجالت کے کھلونے آئے
ہاتھ میں سنگ اٹھائے ہوئے بونے آئے
یوں تو اب بھی تِرے خط ڈاک میں مل جاتے ہیں
کوئی تحریر تو آنکھوں کو بھگونے آئے
اِس سے پہلے کہ کڑی دھوپ میں میلا ہو بدن
تُو اِسے لمس کی خوشبو سے بھی دھونے آئے