Thursday, 8 December 2016

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے
تیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے
تم جو میری بات سنے بِن چل دیتے
رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے
رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا
سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے
آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیں
روشن ہے اب چہرہ درد کے غازے سے
تیرا دکھ تو ایک لڑی تھا خوشیوں کی
تار الگ یہ کس نے کِیا شیرازے سے
کتنے سموں کے شعلوں پر اک خواب جلے
کتنی یادیں سر پھوڑیں دروازے سے
احمؔد گہری سوچ کی خو کب پائی ہے
تم تو باتیں کرتے تھے اندازے سے

سید آل احمد

No comments:

Post a Comment