اِن ڈور پلانٹ
مجھے سب نے بتایا ہے
کہ میں اِن ڈور پودا ہوں
دمکتے سبز پتے زرد پڑ کر سُوکھ جاتے ہیں
سُنا ہے روشنی بھی لازمی عنصر ہے جینے کا
اندھیرے کا تسلسل زندگی کو چاٹ جاتا ہے
مجھے بھی زندہ رہنے کو ضیاء درکار ہے سائیں
اِن ڈور پلانٹ
مجھے سب نے بتایا ہے
کہ میں اِن ڈور پودا ہوں
دمکتے سبز پتے زرد پڑ کر سُوکھ جاتے ہیں
سُنا ہے روشنی بھی لازمی عنصر ہے جینے کا
اندھیرے کا تسلسل زندگی کو چاٹ جاتا ہے
مجھے بھی زندہ رہنے کو ضیاء درکار ہے سائیں
لفظ رُوٹھے ہیں تو سِیٹی ہی بجا لیں مِل کے
ایک آواز میں سب شور نکالیں دل کے
اک پگھلتے ہوئے گلشن میں کوئی کیا سوچے
پھر بھی سوچا ہے کوئی رنگ جما لیں کھِل کے
اس سے پہلے کہ بکھر نے لگیں ریشہ ریشہ
دھجیوں سے کوئی پوشاک بنا لیں سِل کے
تفصیل کا نہیں وہ، خلاصوں میں بانٹ دے
اس خواب کو تمام حواسوں میں بانٹ دے
پنگھٹ پہ کیا سماں ہے بتایا نہ جائے گا
گاگر میں جتنا صبر ہے پیاسوں میں بانٹ دے
سب کو سمجھ نہ اپنی چکاچوند کا حجاب
کچھ کترنیں دریدہ لباسوں میں بانٹ دے
اُگتے ہوئے نہ روند، لگے مت خراب کر
تُو زرد ہے تو سب کے ہرے مت خراب کر
اپنی کڑی سے کاٹ خرابی کا سلسلہ
پہلے ہوئے نبیڑ،۔ نئے مت خراب کر
جو جس مقام پر ہے اسے بے سبب نہ چھیڑ
بکھرے ہوئے سمیٹ، پڑے مت خراب کر
مِری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے
تمہیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے
سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے
اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے
مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا ہے
مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے
وہ جانتی ہے بدن کی بولی
مخاطبیں کے تمام خلیے
اسے دکھاتے ہیں اپنے اپنے متونِ اصلی
وہ چُپ کا ہر بھید جانتی ہے
وہ آنکھ کی پُتلیوں کے اندر لکھی کہانی میں
اپنا کردار، اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے
میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں
تُو ٹھنڈا میٹھا ہے لیکن مجھ کو پیاس نہیں
یوں سنتے ہیں جیسے خوابوں کی آواز ہو تم
یوں بیٹھے ہیں بیٹھے ہونے کا احساس نہیں
سارے سِکوں پر ہے دونوں جانب تیرا نقش
ایسے میں تو جھگڑا ہی ممکن ہے ٹاس نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حبس نکلے، دلِ مضطر سے وبائیں جائیں
کھڑکیاں کھول، مدینے کی ہوائیں آئیں
ابرِ رحمت کی طرح ان پہ جوانی آئے
لوریاں جن کو درودوں کی سنائیں مائیں
آج ہو جائے شرابور ہماری محفل
حُبِ محبوبِؐ خدا کی وہ گھٹائیں چھائیں
جانے کیا دوڑ تھی
تُو نے کچھ دیر کو
ٹھیرنے، سوچنے کا اشارہ دیا
یا خدا شکریہ
دائیں بائیں سبھی سگنلوں پر جو سرخی کا ہالہ بنا
اُس نے اِس بھاگتی، اپنے رستے کی ہر چیز کو روندتی
تیز رفتار دنیا کو ٹھیرا دیا
بابا آپ کے کھیس کی بُکل
بابا! آپ کے کھیس کی بُکل میں رہتی تھی
چھوٹی سی معصوم کہانی
جس میں تھی پریوں کی رانی
ایک سنہرہ محل تھا جس میں
سرخ گلابوں کے بستر پر
پاؤں تلے خوابوں کے شیشے ٹُوٹ رہے ہیں
کیسے چال چلوں مہرے ٹوٹ رہے ہیں
سر پر آن پڑے جانے کب وقت کا خیمہ
لمحوں سے پیوستہ لمحے ٹوٹ رہے ہیں
کون کسے پہچان کے بانہیں پھیلائے گا
جسم رہے جاتے ہیں چہرے ٹوٹ جاتے ہیں
میری ماں کو تالے لگانے کی عادت نہیں تھی
اس کے ٹرنک بھی کھلے رہتے تھے الماریاں بھی
اسے محبت بھی وافر ملی تھی، توقیر بھی
اسے سہیلیاں بنانے کی بھی اجازت تھی، اور ہنسنے کی بھی
وہ غم بانٹ لینے میں بھی آزاد تھی اور خوشیاں تقسیم کرنے میں بھی
اسے بہت سراہا جاتا تھا اور چاہا بھی
بڑھاپا خوب صورت ہے
کسی کو آپ کے بالوں کی چاندی سے محبت ہو
کسی کو آپ کی آنکھوں پہ اب بھی پیار آتا ہو
لبوں پر مسکراہٹ کے گلابی پھول کھل پائیں
جبیں کی جُھریوں میں روشنی سمٹی ہوئی تو
بڑھاپا خوبصورت ہے
میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں
تُو ٹھنڈا میٹھا ہے لیکن مجھ کو پیاس نہیں
سارے سِکوں پر ہے دونوں جانب تیرا نقش
ایسے میں تو جھگڑا ہی ممکن ہے ٹاس نہیں
کوئی جان سے پیارا رشتہ جب آزار بنے
بس تھوڑا سا ناخن کاٹا جائے، ماس نہیں
مِری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے
تمہیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے
سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے
اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے
مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا ہے
مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے
سر جھکائے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے
ہم کھڑے ہیں تِرے عہد توڑے ہوئے
مِرے رستے سے اٹھ جا سگِ رنگ و بُو
میں بدن کی مہاریں ہوں موڑے ہوئے
زندگی اپنی قاشیں سجا لائی ہے
اشک چھڑکے ہوئے غم نچوڑے ہوئے
دشتِ ظلمت میں دل ہی نہیں گم ہوئے
پہلے ٹوٹے گماں، پھر یقیں گم ہوئے
تھام کر ہاتھ میلے میں لائے تھے جو
وہ کہیں رہ گئے، ہم کہیں گم ہوئے؟
کس سے ملتی ہمیں اس گلی کی خبر؟
کچھ گئے ہی نہیں، کچھ وہیں گم ہوئے
ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر
لیکن وہ کسی کا نہیں اپنا بھی نہیں خیر
جو سوچتے رہتے ہیں وہ کرنا نہیں ممکن
کرنے کے ارادے سے تو سوچا بھی نہیں خیر
شُہرا ہے کہ رسوائی کی تصدیق ہے وہ شخص
شہرت کا بھروسہ کوئی ہوتا بھی نہیں خیر