Showing posts with label حمیدہ شاہین. Show all posts
Showing posts with label حمیدہ شاہین. Show all posts

Monday, 13 May 2024

مجھے سب نے بتایا ہے کہ میں ان ڈور پودا ہوں

  اِن ڈور پلانٹ

مجھے سب نے بتایا ہے

کہ میں اِن ڈور پودا ہوں

دمکتے سبز پتے زرد پڑ کر سُوکھ جاتے ہیں

سُنا ہے روشنی بھی لازمی عنصر ہے جینے کا

اندھیرے کا تسلسل زندگی کو چاٹ جاتا ہے

مجھے بھی زندہ رہنے کو ضیاء درکار ہے سائیں

Sunday, 19 February 2023

لفظ روٹھے ہیں تو سیٹی ہی بجا لیں مل کے

 لفظ رُوٹھے ہیں تو سِیٹی ہی بجا لیں مِل کے

ایک آواز میں سب شور نکالیں دل کے

اک پگھلتے ہوئے گلشن میں کوئی کیا سوچے

پھر بھی سوچا ہے کوئی رنگ جما لیں کھِل کے

اس سے پہلے کہ بکھر نے لگیں ریشہ ریشہ

دھجیوں سے کوئی پوشاک بنا لیں سِل کے

Saturday, 18 February 2023

تفصیل کا نہیں وہ خلاصوں میں بانٹ دے

 تفصیل کا نہیں وہ، خلاصوں میں بانٹ دے

اس خواب کو تمام حواسوں میں بانٹ دے

پنگھٹ پہ کیا سماں ہے بتایا نہ جائے گا

گاگر میں جتنا صبر ہے پیاسوں میں بانٹ دے

سب کو سمجھ نہ اپنی چکاچوند کا حجاب

کچھ کترنیں دریدہ لباسوں میں بانٹ دے

Saturday, 23 April 2022

اگتے ہوئے نہ روند لگے مت خراب کر

 اُگتے ہوئے نہ روند، لگے مت خراب کر

تُو زرد ہے تو سب کے ہرے مت خراب کر

اپنی کڑی سے کاٹ خرابی کا سلسلہ

پہلے ہوئے نبیڑ،۔ نئے مت خراب کر

جو جس مقام پر ہے اسے بے سبب نہ چھیڑ

بکھرے ہوئے سمیٹ، پڑے مت خراب کر

Tuesday, 12 April 2022

مری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

 مِری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

تمہیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے

سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے

اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے

مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا  ہے

مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے

Friday, 25 March 2022

وہ جانتی ہے بدن کی بولی وہ چپ کا ہر بھید جانتی ہے

 وہ جانتی ہے بدن کی بولی

مخاطبیں کے تمام خلیے

اسے دکھاتے ہیں اپنے اپنے متونِ اصلی

وہ چُپ کا ہر بھید جانتی ہے

وہ آنکھ کی پُتلیوں کے اندر لکھی کہانی میں 

اپنا کردار، اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے 

Sunday, 5 December 2021

میں برہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

 میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

تُو ٹھنڈا میٹھا ہے لیکن مجھ کو پیاس نہیں

یوں سنتے ہیں جیسے خوابوں کی آواز ہو تم

یوں بیٹھے ہیں بیٹھے ہونے کا احساس نہیں

سارے سِکوں پر ہے دونوں جانب تیرا نقش

ایسے میں تو جھگڑا ہی ممکن ہے ٹاس نہیں

Thursday, 18 November 2021

کھڑکیاں کھول مدینے کی ہوائیں آئیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حبس نکلے، دلِ مضطر سے وبائیں جائیں

کھڑکیاں کھول، مدینے کی ہوائیں آئیں

ابرِ رحمت کی طرح ان پہ جوانی آئے

لوریاں جن کو درودوں کی سنائیں مائیں

آج ہو جائے شرابور ہماری محفل

حُبِ محبوبِؐ خدا کی وہ گھٹائیں چھائیں

Wednesday, 28 July 2021

تو نے کچھ دیر کو ٹھیرنے سوچنے کا اشارہ دیا

 جانے کیا دوڑ تھی


تُو نے کچھ دیر کو

ٹھیرنے، سوچنے کا اشارہ دیا

یا خدا شکریہ

دائیں بائیں سبھی سگنلوں پر جو سرخی کا ہالہ بنا

اُس نے اِس بھاگتی، اپنے رستے کی ہر چیز کو روندتی

تیز رفتار دنیا کو ٹھیرا دیا

Tuesday, 29 June 2021

بابا آپ کے کھیس کی بکل میں رہتی تھی

 بابا آپ کے کھیس کی بُکل


بابا! آپ کے کھیس کی بُکل میں رہتی تھی

چھوٹی سی معصوم کہانی

جس میں تھی پریوں کی رانی

ایک سنہرہ محل تھا جس میں

سرخ گلابوں کے بستر پر

Thursday, 6 May 2021

پاؤں تلے خوابوں کے شیشے ٹوٹ رہے ہیں

 پاؤں تلے خوابوں کے شیشے ٹُوٹ رہے ہیں

کیسے چال چلوں مہرے ٹوٹ رہے ہیں

سر پر آن پڑے جانے کب وقت کا خیمہ

لمحوں سے پیوستہ لمحے ٹوٹ رہے ہیں

کون کسے پہچان کے بانہیں پھیلائے گا

جسم رہے جاتے ہیں چہرے ٹوٹ جاتے ہیں

Friday, 12 March 2021

میری ماں کو تالے لگانے کی عادت نہیں تھی

 میری ماں کو تالے لگانے کی عادت نہیں تھی

اس کے ٹرنک بھی کھلے رہتے تھے الماریاں بھی

اسے محبت بھی وافر ملی تھی، توقیر بھی

اسے سہیلیاں بنانے کی بھی اجازت تھی، اور ہنسنے کی بھی

وہ غم بانٹ لینے میں بھی آزاد تھی اور خوشیاں تقسیم کرنے میں بھی

اسے بہت سراہا جاتا تھا اور چاہا بھی

Friday, 8 January 2021

بڑھاپا خوب صورت ہے

 بڑھاپا خوب صورت ہے


کسی کو آپ کے بالوں کی چاندی سے محبت ہو

کسی کو آپ کی آنکھوں پہ اب بھی پیار آتا ہو

لبوں پر مسکراہٹ کے گلابی پھول کھل پائیں

جبیں کی جُھریوں میں روشنی سمٹی ہوئی تو

بڑھاپا خوبصورت ہے

Wednesday, 11 November 2020

میں برہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

 میں بِرہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں

تُو ٹھنڈا میٹھا ہے لیکن مجھ کو پیاس نہیں

سارے سِکوں پر ہے دونوں جانب تیرا نقش

ایسے میں تو جھگڑا ہی ممکن ہے ٹاس نہیں

کوئی جان سے پیارا رشتہ جب آزار بنے

بس تھوڑا سا ناخن کاٹا جائے، ماس نہیں

Monday, 2 November 2020

مری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

 مِری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

تمہیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے

سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے

اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے

مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا ہے

مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے

Thursday, 8 October 2020

سر جھکائے ہوئے ہاتھ جوڑے ہوئے

 سر جھکائے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے

ہم کھڑے ہیں تِرے عہد توڑے ہوئے

مِرے رستے سے اٹھ جا سگِ رنگ و بُو

میں بدن کی مہاریں ہوں موڑے ہوئے

زندگی اپنی قاشیں سجا لائی ہے

اشک چھڑکے ہوئے غم نچوڑے ہوئے

Monday, 5 October 2020

دشت ظلمت میں دل ہی نہیں گم ہوئے

 دشتِ ظلمت میں دل ہی نہیں گم ہوئے

پہلے ٹوٹے گماں، پھر یقیں گم ہوئے

تھام کر ہاتھ میلے میں لائے تھے جو

وہ کہیں رہ گئے، ہم کہیں گم ہوئے؟

کس سے ملتی ہمیں اس گلی کی خبر؟

کچھ گئے ہی نہیں، کچھ وہیں گم ہوئے

Tuesday, 29 September 2020

ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر

 ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر

لیکن وہ کسی کا نہیں اپنا بھی نہیں خیر

جو سوچتے رہتے ہیں وہ کرنا نہیں ممکن

کرنے کے ارادے سے تو سوچا بھی نہیں خیر

شُہرا ہے کہ رسوائی کی تصدیق ہے وہ شخص

شہرت کا بھروسہ کوئی ہوتا بھی نہیں خیر

Sunday, 9 August 2020

دل کہتا ہے اس وحشی کے سینے میں اک خنجر ماروں

تین سالہ بچی کا ریپ

دل کہتا ہے اس وحشی کے
سینے میں اک خنجر ماروں
ناخن کھینچوں
ہاتھوں اور پیروں کی اِک اِک انگلی توڑوں
ہوس کی ماری آنکھیں نوچوں اور کتوں کے آگے ڈالوں

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
آدھے لوگ نِری مٹی تھے، آدھے چاند ستارے لوگ
اس ترتیب میں کوئی جانی بوجھی بے ترتیبی تھی
آدھے ایک کنارے پر تھے، آدھے ایک کنارے لوگ
اس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
آدھے اس نے ساتھ ملاۓ، آدھے اس نے مارے لوگ