Sunday, 9 August 2020

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ

کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
آدھے لوگ نِری مٹی تھے، آدھے چاند ستارے لوگ
اس ترتیب میں کوئی جانی بوجھی بے ترتیبی تھی
آدھے ایک کنارے پر تھے، آدھے ایک کنارے لوگ
اس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
آدھے اس نے ساتھ ملاۓ، آدھے اس نے مارے لوگ
آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
اس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ
کس کے ساتھ ہماری یکجانی کا منظر بن پاتا
آدھے جان کے دشمن تھے اور  آدھے جان سے پیارے لوگ
ان پر خواب ہوا اور  پانی کی تبدیلی لازم ہے
آدھے پھیکے بے رس ہو گئے، آدھے زہر تمہارے لوگ
آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دئیے
آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ
آدھوں آدھ کٹی یکجائی، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
آدھے پاؤں کے نیچے رکھے، آدھے سر سے وارے لوگ
ایسا بندوبست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اتارے لوگ
کچھ لوگوں پر شیشے کے اس جانب ہونا واجب تھا
دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

حمیدہ شاہین

No comments:

Post a Comment