عشق میں سہولت کیا
آدمی کو مہلت کیا
عمر بھر رواں رہتی
آپ کی عنایت کیا
وصل سے تو بہتر ہے
ہجر سے عداوت کیا
عشق میں سہولت کیا
آدمی کو مہلت کیا
عمر بھر رواں رہتی
آپ کی عنایت کیا
وصل سے تو بہتر ہے
ہجر سے عداوت کیا
سنو ہمدم بہت مشکل گھڑی ہے
محبت ٹوٹ کر بکھری پڑی ہے
سناؤ مجھ کو غم کے کچھ فسانے
خوشی دل میں مِرے اب تک گڑی ہے
بہت کچھ تم سے کہنا رہ گیا تھا
جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
فریاد
ہاتھ کے چھالے رہنے دو
پاوں میں کانٹے چبھنے دو
آنکھ کا کاجل بہنے دو
زخمِ دل کو رسنے دو
دل کی چاہت خاک پڑے
ارمانوں پر اوس پڑے
جو وصل کی کوئی شام نہ دے
جو نیند اڑا دے آنکھوں سے
جو تلپٹ کر دے سانسوں کو
جو دل کو سکوں کا پل نہ دے
جو پل پل رنگ بدلتی ہو
جو ہجر کی قیدی بن بیٹھے
ہمیشہ دو رخی رہنا
نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا
کہ اس کو لوگ پڑھتے ہیں
لبوں کو بھینچ کر رکھنا
کہ شکوے اور شکایت کا کوئی موسم نہیں ہوتا
یہ جو دل ہے
میری غزلوں کا ہر قافیہ مسترد
آپ ہوں سامنے، آئینہ مسترد
شاعری واعری دیکھتا کون ہے
حسن جب تک نہ ہو شاعرہ مسترد
خامشی میری رگ رگ میں گھر کر گئی
شور کرتی ہوئی ہر جگہ مسترد
تمہیں ہم سے بچھڑنا تھا
بچھڑ جاتے
اگر رستہ بدلنا تھا
بدل جاتے
کوئی الزام دینا تھا
لگا جاتے