Showing posts with label ناہید عزمی. Show all posts
Showing posts with label ناہید عزمی. Show all posts

Tuesday, 27 July 2021

عشق میں سہولت کیا

 عشق میں سہولت کیا

آدمی کو مہلت کیا

عمر بھر رواں رہتی

آپ کی عنایت کیا

وصل سے تو بہتر ہے

ہجر سے عداوت کیا

Thursday, 22 July 2021

سنو ہمدم بہت مشکل گھڑی ہے

 سنو ہمدم بہت مشکل گھڑی ہے

محبت ٹوٹ کر بکھری پڑی ہے

سناؤ مجھ کو غم کے کچھ فسانے

خوشی دل میں مِرے اب تک گڑی ہے

بہت کچھ تم سے کہنا رہ گیا تھا

جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے

Wednesday, 21 July 2021

ہاتھ کے چھالے رہنے دو

 فریاد


ہاتھ کے چھالے رہنے دو

پاوں میں کانٹے چبھنے دو

آنکھ کا کاجل بہنے دو

زخمِ دل کو رسنے دو

دل کی چاہت خاک پڑے

ارمانوں پر اوس پڑے

Tuesday, 20 July 2021

جو نیند اڑا دے آنکھوں سے

 جو وصل کی کوئی شام نہ دے


جو نیند اڑا دے آنکھوں سے

جو تلپٹ کر دے سانسوں کو

جو دل کو سکوں کا پل نہ دے

جو پل پل رنگ بدلتی ہو

جو ہجر کی قیدی بن بیٹھے

Monday, 19 July 2021

نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا

ہمیشہ دو رخی رہنا


نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا 

کہ اس کو لوگ پڑھتے ہیں

لبوں کو بھینچ کر رکھنا

کہ شکوے اور شکایت کا کوئی موسم نہیں ہوتا

یہ جو دل ہے

Sunday, 4 April 2021

میری غزلوں کا ہر قافیہ مسترد

 میری غزلوں کا ہر قافیہ مسترد

آپ ہوں سامنے، آئینہ مسترد

شاعری واعری دیکھتا کون ہے

حسن جب تک نہ ہو شاعرہ مسترد

خامشی میری رگ رگ میں گھر کر گئی

شور کرتی ہوئی ہر جگہ مسترد

Saturday, 3 April 2021

تمہیں ہم سے بچھڑنا تھا بچھڑ جاتے

 تمہیں ہم سے بچھڑنا تھا

بچھڑ جاتے

اگر رستہ بدلنا تھا

بدل جاتے

کوئی الزام دینا تھا

لگا جاتے