Wednesday, 21 July 2021

ہاتھ کے چھالے رہنے دو

 فریاد


ہاتھ کے چھالے رہنے دو

پاوں میں کانٹے چبھنے دو

آنکھ کا کاجل بہنے دو

زخمِ دل کو رسنے دو

دل کی چاہت خاک پڑے

ارمانوں پر اوس پڑے

جسم کا ایندھن جلتا یے

اس کو جل کر بجھنے دو

تم سے اک فریاد ہے بس

عزت، مجھ کو عزت دو


ناہید عزمی

No comments:

Post a Comment