Showing posts with label ثمینہ گل. Show all posts
Showing posts with label ثمینہ گل. Show all posts

Sunday, 31 December 2023

جس دم خیال خام کو پرواز ملی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس دَم خیالِ خام کو پروازِ مِلی ہے

اُس دم مِرے دھیان میں بس روشنی ہوئی

لفظوں کی ضو سے میرا دہن بھی چمک اُٹھا

اُس دم مِری زبان میں بس روشنی ہوئی

اک کہکشاں سی خواب کے پہلو میں آ گئی

آنکھوں کے درمیان میں بس روشنی ہوئی

Friday, 24 September 2021

جگنو مرے نصیب کے لا کر اجال دے

 جگنو مِرے نصیب کے لا کر اُجال دے

غم کی سیاہ رات کو اب تو زوال دے

رو رو کے بھر گئی ہے غموں سے یہ زندگی

دکھ سے بچا لے اور مِری خوشیاں اُچھال دے

گرد و غبار آندھی و طوفاں میں ہیں گھرے

کنکر گرے ہیں آنکھ میں ان کو نکال دے

Tuesday, 25 May 2021

کھنچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے

 کھنچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے

دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے

پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ

دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے

اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک

کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے

Saturday, 22 May 2021

شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات

 شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات

لے کر چلا بھی جا اب اپنی اٹھا یہ رات

شوقِ جنوں کی شاخ سے جگنو سمیٹ لے

چل چاند کی زمین پہ چل کے بنا یہ رات

ہر اک جگہ فصیل غمِ جاں کو کاٹ دے

دیپک ہوا کے ہاتھ پہ رکھ کے جلا یہ رات

Sunday, 25 April 2021

بڑے ہی تیز چبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

 بڑے ہی تیز چُبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

مجھے اکثر یہ اپنوں کے رویے مار دیتے ہیں

جسے اپنا سمجھتے ہیں، وہی تکلیف دیتا ہے

یہ در در جا پہ ہیں کھُلتے دریچے مار دیتے ہیں

جسے ہم طول دیتے ہیں تکلف بر طرف ہو کر

تعلق سے بندھے اکثر وہ رشتے مار دیتے ہیں

Tuesday, 6 April 2021

مقدر آزمانے میں زمانے بیت جاتے ہیں

 مقدر آزمانے میں زمانے بِیت جاتے ہیں

مرادیں دل کی پانے میں زمانے بیت جاتے ہیں

محبت زندگی میں گو بڑی مشکل سے ملتی ہے

مگر اس کو نبھانے میں زمانے بیت جاتے ہیں

نہیں کرتا کوئی ہمت اگر اظہارِ الفت کی 

زباں پر بات لانے میں زمانے بیت جاتے ہیں

Monday, 5 April 2021

من کا رشتہ سچا ہے اور صدیوں ساتھ نبھائے گا

 من کا رشتہ سچا ہے اور صدیوں ساتھ نبھائے گا

تن کا رشتہ جھُوٹا ہے، جو مٹی میں مل جائے گا

دل میں اب تک آس یہی ہے مجھ سے رُوٹھنے والا پھر

میری زُلفیں ہاتھ سے اپنے آ کر خود سُلجھائے گا

اہلِ نظر کی مجھ پر نظر ہے لفظ میری پہچان بنے

بات جو میرے منہ سے نکلی وقت اُسے دہرائے گا

Sunday, 4 April 2021

موہے کاتن دے تو آج پیا گھر جانا ہے

 موہے کاتن دے تُو آج، پِیا گھر جانا ہے

مورا تھُڑ نہ جائے داج، پیا گھر جانا ہے

پیا من کا بھیدی رے وا مورے تن کا بھیدی رے

موہے آوے شرم سے لاج، پیا گھر جانا ہے

نہ چھیڑ مجھے پُروا، مت دنیا میں یوں الجھا

مورے من پہ پیا کا راج، پیا گھر جانا ہے

Thursday, 25 February 2021

رات کے آنچل پہ موتی ٹانکتی ہی رہ گئی

 رات کے آنچل پہ موتی ٹانکتی ہی رہ گئی

چاندنی سے چاند کو میں مانگتی ہی رہ گئی

قافلے یادوں کے کب کے جا چکے سب چھوڑ کر

خواب چنتی آنکھ ساماں باندھتی ہی رہ گئی

سر پٹختی پھر رہی تھی میں، ہوا اور تیری یاد

صحرا صحرا گھومتی اور ہانکتی ہی رہ گئی