عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس دَم خیالِ خام کو پروازِ مِلی ہے
اُس دم مِرے دھیان میں بس روشنی ہوئی
لفظوں کی ضو سے میرا دہن بھی چمک اُٹھا
اُس دم مِری زبان میں بس روشنی ہوئی
اک کہکشاں سی خواب کے پہلو میں آ گئی
آنکھوں کے درمیان میں بس روشنی ہوئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس دَم خیالِ خام کو پروازِ مِلی ہے
اُس دم مِرے دھیان میں بس روشنی ہوئی
لفظوں کی ضو سے میرا دہن بھی چمک اُٹھا
اُس دم مِری زبان میں بس روشنی ہوئی
اک کہکشاں سی خواب کے پہلو میں آ گئی
آنکھوں کے درمیان میں بس روشنی ہوئی
جگنو مِرے نصیب کے لا کر اُجال دے
غم کی سیاہ رات کو اب تو زوال دے
رو رو کے بھر گئی ہے غموں سے یہ زندگی
دکھ سے بچا لے اور مِری خوشیاں اُچھال دے
گرد و غبار آندھی و طوفاں میں ہیں گھرے
کنکر گرے ہیں آنکھ میں ان کو نکال دے
کھنچتا ہے کون آخر دائرے در دائرے
دائرے ہی دائرے ہیں دائروں پر دائرے
پانیوں کی کوکھ سے بھی پھوٹتا ہے دائرہ
دیر تک پھر گھومتے رہتے ہیں اکثر دائرے
اس کتاب زیست کے بھی آخری صفحے تلک
کھینچ ڈالے قوس نے بھی زندگی پر دائرے
شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات
لے کر چلا بھی جا اب اپنی اٹھا یہ رات
شوقِ جنوں کی شاخ سے جگنو سمیٹ لے
چل چاند کی زمین پہ چل کے بنا یہ رات
ہر اک جگہ فصیل غمِ جاں کو کاٹ دے
دیپک ہوا کے ہاتھ پہ رکھ کے جلا یہ رات
بڑے ہی تیز چُبھتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں
مجھے اکثر یہ اپنوں کے رویے مار دیتے ہیں
جسے اپنا سمجھتے ہیں، وہی تکلیف دیتا ہے
یہ در در جا پہ ہیں کھُلتے دریچے مار دیتے ہیں
جسے ہم طول دیتے ہیں تکلف بر طرف ہو کر
تعلق سے بندھے اکثر وہ رشتے مار دیتے ہیں
مقدر آزمانے میں زمانے بِیت جاتے ہیں
مرادیں دل کی پانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
محبت زندگی میں گو بڑی مشکل سے ملتی ہے
مگر اس کو نبھانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
نہیں کرتا کوئی ہمت اگر اظہارِ الفت کی
زباں پر بات لانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
من کا رشتہ سچا ہے اور صدیوں ساتھ نبھائے گا
تن کا رشتہ جھُوٹا ہے، جو مٹی میں مل جائے گا
دل میں اب تک آس یہی ہے مجھ سے رُوٹھنے والا پھر
میری زُلفیں ہاتھ سے اپنے آ کر خود سُلجھائے گا
اہلِ نظر کی مجھ پر نظر ہے لفظ میری پہچان بنے
بات جو میرے منہ سے نکلی وقت اُسے دہرائے گا
موہے کاتن دے تُو آج، پِیا گھر جانا ہے
مورا تھُڑ نہ جائے داج، پیا گھر جانا ہے
پیا من کا بھیدی رے وا مورے تن کا بھیدی رے
موہے آوے شرم سے لاج، پیا گھر جانا ہے
نہ چھیڑ مجھے پُروا، مت دنیا میں یوں الجھا
مورے من پہ پیا کا راج، پیا گھر جانا ہے
رات کے آنچل پہ موتی ٹانکتی ہی رہ گئی
چاندنی سے چاند کو میں مانگتی ہی رہ گئی
قافلے یادوں کے کب کے جا چکے سب چھوڑ کر
خواب چنتی آنکھ ساماں باندھتی ہی رہ گئی
سر پٹختی پھر رہی تھی میں، ہوا اور تیری یاد
صحرا صحرا گھومتی اور ہانکتی ہی رہ گئی