موہے کاتن دے تُو آج، پِیا گھر جانا ہے
مورا تھُڑ نہ جائے داج، پیا گھر جانا ہے
پیا من کا بھیدی رے وا مورے تن کا بھیدی رے
موہے آوے شرم سے لاج، پیا گھر جانا ہے
نہ چھیڑ مجھے پُروا، مت دنیا میں یوں الجھا
مورے من پہ پیا کا راج، پیا گھر جانا ہے
مورے سانس کی ڈوری میں پیہو پیہو بولت ہے
مورے پی کو پسند یہ کاج، پیا گھر جانا ہے
ثمینہ گل
No comments:
Post a Comment