یادیں
بارش برس رہی ہے باہر
دل میں اک ہلچل سی مچی ہے
کیسے تجھ کو بتائیں جاناں
ہم پہ کیا کیا گُزر رہی ہے
بیٹھے بیٹھے تیری یادیں
ماضی کے اوراق پلٹ کر
دُور کہیں لے جانے لگی ہیں
جس جانب بھی نظر اُٹھاؤں
مجھ کو بیتے ہُوئے منظر میں
تیرا چہرہ دِکھتا ہے
چائے سامنے میز پہ رکھی
ٹھنڈی ہو جاتی ہے، اور
سامنے کی دِیوار پہ کاڑهے
ماضی کے ہر اک منظر میں
پُھولوں اور کلیوں کے اندر
تیرا چہرہ دِکھتا ہے
روبینہ شاہین بینا
No comments:
Post a Comment