Sunday, 4 April 2021

بارش برس رہی ہے باہر دل میں اک ہلچل سی مچی ہے

یادیں


بارش برس رہی ہے باہر

دل میں اک ہلچل سی مچی ہے

کیسے تجھ کو بتائیں جاناں

ہم پہ کیا کیا گُزر رہی ہے

بیٹھے بیٹھے تیری یادیں 

ماضی کے اوراق پلٹ کر

دُور کہیں لے جانے لگی ہیں

جس جانب بھی نظر اُٹھاؤں 

مجھ کو بیتے ہُوئے منظر میں

تیرا چہرہ دِکھتا ہے

چائے سامنے میز پہ رکھی 

ٹھنڈی ہو جاتی ہے، اور 

سامنے کی دِیوار پہ کاڑهے 

ماضی کے ہر اک منظر میں

پُھولوں اور کلیوں کے اندر

تیرا چہرہ دِکھتا ہے


روبینہ شاہین بینا

No comments:

Post a Comment