دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے
جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے
جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی
بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے
شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے
حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے
دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے
جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے
جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی
بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے
شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے
حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے
سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے
ہر طرف آہ اور فغاں کیوں ہے
بند ہے آج کیا درِ رحمت؟
ہر دعا میری رائیگاں کیوں ہے
پی لیا کیا ستم نے آبِ حیات
خوف سے بند ہر زباں کیوں ہے
غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ
دیپ ہر گام پہ جل جائیں گے رفتہ رفتہ
آبلہ پائی ہی کافی ہے ترا رخت سفر
خار خود گل میں بدل جائیں گے رفتہ رفتہ
طور پر آ کے ذرا آپ اٹھائیں تو نقاب
سنگدل بن کے پگھل جائیں گے رفتہ رفتہ
جب تک غبارِ راہ مرا ہمسفر رہا
رستہ تو تھا طویل مگر مختصر رہا
ہر چند ہو گیا ہے ثریا سے بھی بلند
لیکن شجر جفا کا سدا بے ثمر رہا
اہلِ جنوں نے توڑ دئیے وہ حصار بھی
ہوش و خِرد کا تیشہ جہاں بے ضرر رہا
لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ
چشمِ پُر نم کے مقابل تو پھوہارو آؤ
چند تنکوں کا جلانا تو بڑی بات نہیں
عزم کو میرے جلاؤ تو شرارو آؤ
غم کا سیلابِ غضب، دل کی شکستہ کشتی
موج کے ساتھ ہی یادوں کے کنارو آؤ