Showing posts with label احمد شاہد. Show all posts
Showing posts with label احمد شاہد. Show all posts

Friday, 21 May 2021

دنیا سبھی باطل کی طلبگار لگے ہے

 دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے

جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے

جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی

بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے

شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے

حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے

Thursday, 20 May 2021

سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے

 سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے

ہر طرف آہ اور فغاں کیوں ہے

بند ہے آج کیا درِ رحمت؟

ہر دعا میری رائیگاں کیوں ہے

پی لیا کیا ستم نے آبِ حیات

خوف سے بند ہر زباں کیوں ہے

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

 غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

دیپ ہر گام پہ جل جائیں گے رفتہ رفتہ

آبلہ پائی ہی کافی ہے ترا رخت سفر

خار خود گل میں بدل جائیں گے رفتہ رفتہ

طور پر آ کے ذرا آپ اٹھائیں تو نقاب

سنگدل بن کے پگھل جائیں گے رفتہ رفتہ

Wednesday, 19 May 2021

جب تک غبار راہ مرا ہمسفر رہا

 جب تک غبارِ راہ مرا ہمسفر رہا

رستہ تو تھا طویل مگر مختصر رہا

ہر چند ہو گیا ہے ثریا سے بھی بلند

لیکن شجر جفا کا سدا بے ثمر رہا

اہلِ جنوں نے توڑ دئیے وہ حصار بھی

ہوش و خِرد کا تیشہ جہاں بے ضرر رہا

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ

 لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ

چشمِ پُر نم کے مقابل تو پھوہارو آؤ

چند تنکوں کا جلانا تو بڑی بات نہیں

عزم کو میرے جلاؤ تو شرارو آؤ

غم کا سیلابِ غضب، دل کی شکستہ کشتی

موج کے ساتھ ہی یادوں کے کنارو آؤ