Friday, 21 May 2021

دنیا سبھی باطل کی طلبگار لگے ہے

 دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے

جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے

جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی

بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے

شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے

حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے

وہ تیری وفا کی ہو کہ دنیا کی جفا کی

مت چھیڑ کوئی بات کہ تلوار لگے ہے

کیا ظرف ہے ہر ظلم پہ خاموش ہے دنیا

اس دور کا انسان پر اسرار لگے ہے

جس نے کبھی دریا کا تلاطم نہیں دیکھا

ساحل بھی اسے دور سے منجھدار لگے ہے


احمد شاہد

No comments:

Post a Comment