Friday, 21 May 2021

ساونوں میں چڑھی ہوئی اک پینگ

 ساونوں میں چڑھی ہوئی اک پینگ

شبنموں سے لدی ہوئی لڑکی

بارشوں میں رکے ہوئے بادل

فائلوں پر جھکی ہوئی لڑکی

آئینے، دھوپ، مَلگجے دالان

الجھنوں میں پڑی ہوئی لڑکی

جگنوؤں، خوشبوؤں سے بھی ناراض

اپنی ضد پر اڑی ہوئی لڑکی

شام کی سیڑھیوں پہ افسردہ

آنگنوں سے ڈری ہوئی لڑکی

کرسیوں سے بندھا ہوا قانون

فیصلوں میں سِلی ہوئی لڑکی

بند کمروں میں چیختی تاریخ

طشتری میں دھری ہوئی لڑکی

فرش پر کھانستے ہوئے سگریٹ

سامنے اک بجھی ہوئی لڑکی

دکھ کے ٹاول میں جسم لپٹا کر

بھید ارسالتی ہوئی لڑکی

شب کی درزوں سے جھانکتا ہوا وقت

وقت کو ٹالتی ہوئی لڑکی

میری آنکھوں نے دور سے دیکھا

اور کِھل کر کلی ہوئی لڑکی

منظروں کو تراش کر عامر

آئینے ڈھالتی ہوئی لڑکی


عامر سہیل

No comments:

Post a Comment