Showing posts with label شفیق فاطمہ شعریٰ. Show all posts
Showing posts with label شفیق فاطمہ شعریٰ. Show all posts

Thursday, 22 August 2024

جب بھی سحر آئی یہاں بادۂ گلگوں کا نشہ

 جب بھی سحر آئی یہاں

بادۂ گلگوں کا نشہ

ابر کے پیکر میں رچا

چشمہ سیمیں میں بہا

موج کے ساغر میں رچا

آتش گلزار بنا غنچۂ احمر میں رچا

Friday, 19 July 2024

افق کے سرخ کہرے میں کہستاں ڈوبا ڈوبا ہے

 اسیر


اُفق کے سُرخ کُہرے میں کُہستاں ڈُوبا ڈُوبا ہے

پکھیرُو کُنج میں جھنکار کو اپنی سموتے ہیں

تلاطم گھاس کے بن کا تھما، تارے درختوں کی

گھنی شاخوں کے آویزاں میں موتی سے پروتے ہیں

سبھی سکھیاں گھروں کو لے کے گاگر جا چکیں کب کی

دریچوں سے اب ان کی روشنی رہ رہ کے چھنتی ہے

Thursday, 4 July 2024

یہ فصیل پارینہ یہ کھنڈر یہ سناٹا

‘‘اقتباس از ’’فصیل اورنگ آباد


یہ فصیل پارینہ، یہ کھنڈر، یہ سناٹا

کس خیال میں گم سم ہے یہ رہگزر آخر

میں یہاں ٹھٹکتی ہوں سوچتی ہوں تھوڑی دیر

یہ شکستہ بام و در کیوں ہیں سو گوار آخر

گرد اڑ رہی ہے اب جس وسیع میدان سے

اس کو روند کر گزرے کتنے شہ سوار آخر

Tuesday, 7 March 2023

یاد وطن پودے نہیں اکیلے پر آتما اکیلی

یادِ وطن


پودے نہیں اکیلے

چھایا ہے ان کی سنگی ساتھی

پر آتما اکیلی

وادی کی گود میں چاند

درپن اچھالتا ہے

چاندی کا جگمگاتا

Thursday, 24 June 2021

بازگشت نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم

بازگشت


نغمہ زارِ درد کی جانب چلے ہم

ایک بھی ذرّہ نہ کُچلا جائے اس رفتار سے

نغمہ زارِ درد کی جانب چلے ہم

کُنج میں پیڑوں کے سُورج جھانکتا تھا

کوہساروں سبزہ زاروں میں جھمکتی روشنی کا جشن تھا

جشن جاری ہی رہے گا تا ابد جاری رہے