جب بھی سحر آئی یہاں
بادۂ گلگوں کا نشہ
ابر کے پیکر میں رچا
چشمہ سیمیں میں بہا
موج کے ساغر میں رچا
آتش گلزار بنا غنچۂ احمر میں رچا
جب بھی سحر آئی یہاں
بادۂ گلگوں کا نشہ
ابر کے پیکر میں رچا
چشمہ سیمیں میں بہا
موج کے ساغر میں رچا
آتش گلزار بنا غنچۂ احمر میں رچا
اسیر
اُفق کے سُرخ کُہرے میں کُہستاں ڈُوبا ڈُوبا ہے
پکھیرُو کُنج میں جھنکار کو اپنی سموتے ہیں
تلاطم گھاس کے بن کا تھما، تارے درختوں کی
گھنی شاخوں کے آویزاں میں موتی سے پروتے ہیں
سبھی سکھیاں گھروں کو لے کے گاگر جا چکیں کب کی
دریچوں سے اب ان کی روشنی رہ رہ کے چھنتی ہے
‘‘اقتباس از ’’فصیل اورنگ آباد
یہ فصیل پارینہ، یہ کھنڈر، یہ سناٹا
کس خیال میں گم سم ہے یہ رہگزر آخر
میں یہاں ٹھٹکتی ہوں سوچتی ہوں تھوڑی دیر
یہ شکستہ بام و در کیوں ہیں سو گوار آخر
گرد اڑ رہی ہے اب جس وسیع میدان سے
اس کو روند کر گزرے کتنے شہ سوار آخر
یادِ وطن
پودے نہیں اکیلے
چھایا ہے ان کی سنگی ساتھی
پر آتما اکیلی
وادی کی گود میں چاند
درپن اچھالتا ہے
چاندی کا جگمگاتا
بازگشت
نغمہ زارِ درد کی جانب چلے ہم
ایک بھی ذرّہ نہ کُچلا جائے اس رفتار سے
نغمہ زارِ درد کی جانب چلے ہم
کُنج میں پیڑوں کے سُورج جھانکتا تھا
کوہساروں سبزہ زاروں میں جھمکتی روشنی کا جشن تھا
جشن جاری ہی رہے گا تا ابد جاری رہے