Tuesday, 7 March 2023

یاد وطن پودے نہیں اکیلے پر آتما اکیلی

یادِ وطن


پودے نہیں اکیلے

چھایا ہے ان کی سنگی ساتھی

پر آتما اکیلی

وادی کی گود میں چاند

درپن اچھالتا ہے

چاندی کا جگمگاتا

وہ جھلملاتا منڈوا

خوشہ سا کھل اٹھا ہے

اس میں جنونی تارا

پربت نہیں اکیلے چلتے

چلتے ہیں ساتھ ان کے

وحشی ہوا کے جھونکے ریلے

پر آتما اکیلی

گاتی ہے جب یہ دھرتی

ساتھ اس کے گونجتی ہے

اک صوتِ سرمدی بھی

ساگر ہرلہر میں

بیلا چرا رہا ہے

نرناری کے ملن کی

دریا نہیں اکیلے بہتے

بہتی ہیں ساتھ ان کے

موجیں

ان کی

پر آتما اکیلی


شفیق فاطمہ شعریٰ

No comments:

Post a Comment