Showing posts with label شائق وارثی. Show all posts
Showing posts with label شائق وارثی. Show all posts

Saturday, 16 May 2026

دیدۂ اشک بار نے مارا

 دیدۂ اشکبار نے مارا

آہِ بے اختیار نے مارا

دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو

ایک جانِ بہار نے مارا

خُلد کی حُسن کاریاں توبہ

رُوئے رنگینِ یار نے مارا

Wednesday, 6 November 2024

وصال مرگ ہوا یا وصال یار ہوا

 وصالِ مرگ ہُوا یا وصالِ یار ہُوا

غرض طوالتِ فرقت کا اختصار ہوا

ہوا امتحاں ذرا اے نگاہِ صبر شکن

کسے قرار ہوا؟ کون بے قرار ہوا؟

خیالِ عارضِ گلگوں میں گل کھٹکتے ہیں

نگاہِ یاس میں گلزار، خارزار ہوا

Tuesday, 5 November 2024

کہتا ہے ذرہ ذرہ جہان خراب کا

 کہتا ہے ذرہ ذرہ جہانِ خراب کا

سیماب میں ہے رنگ مِرے اضطراب کا

حشر آفریں ہے رنگ کسی کے شباب کا

شیرازہ منتشر ہے جہانِ خراب کا

کوئی قصور اس میں نہیں ہے نقاب کا

ہر پردہ، پردہ در ہے کسی کے حجاب ہوا

Sunday, 13 December 2020

تو حسیں ہے تری جبیں کی قسم

تو حسیں ہے تری جبیں کی قسم

کہکشاں و مہ مبیں کی قسم

زیست سے تنگ آ گیا کوئی

آپ کی اس نہیں نہیں کی قسم

رات دن بے قرار رہتا ہوں

اضطرابِ دلِ حزیں کی قسم