دیدۂ اشکبار نے مارا
آہِ بے اختیار نے مارا
دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو
ایک جانِ بہار نے مارا
خُلد کی حُسن کاریاں توبہ
رُوئے رنگینِ یار نے مارا
دیدۂ اشکبار نے مارا
آہِ بے اختیار نے مارا
دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو
ایک جانِ بہار نے مارا
خُلد کی حُسن کاریاں توبہ
رُوئے رنگینِ یار نے مارا
وصالِ مرگ ہُوا یا وصالِ یار ہُوا
غرض طوالتِ فرقت کا اختصار ہوا
ہوا امتحاں ذرا اے نگاہِ صبر شکن
کسے قرار ہوا؟ کون بے قرار ہوا؟
خیالِ عارضِ گلگوں میں گل کھٹکتے ہیں
نگاہِ یاس میں گلزار، خارزار ہوا
کہتا ہے ذرہ ذرہ جہانِ خراب کا
سیماب میں ہے رنگ مِرے اضطراب کا
حشر آفریں ہے رنگ کسی کے شباب کا
شیرازہ منتشر ہے جہانِ خراب کا
کوئی قصور اس میں نہیں ہے نقاب کا
ہر پردہ، پردہ در ہے کسی کے حجاب ہوا
تو حسیں ہے تری جبیں کی قسم
کہکشاں و مہ مبیں کی قسم
زیست سے تنگ آ گیا کوئی
آپ کی اس نہیں نہیں کی قسم
رات دن بے قرار رہتا ہوں
اضطرابِ دلِ حزیں کی قسم