تو حسیں ہے تری جبیں کی قسم
کہکشاں و مہ مبیں کی قسم
زیست سے تنگ آ گیا کوئی
آپ کی اس نہیں نہیں کی قسم
رات دن بے قرار رہتا ہوں
اضطرابِ دلِ حزیں کی قسم
جوش پر آج سازِ ہستی ہے
مطربِ نغمہ آفریں کی قسم
ہو گیا ہوں جہان میں بدنام
آپ کی چشمِ شرمگیں کی قسم
حُسنِ عالم فروز پر شائق
مر مِٹا ہوں، مہ مبیں کی قسم
پنڈت شائق وارثی
No comments:
Post a Comment