Sunday, 27 December 2020

کسی بھی شخص سے اب رابطہ نہیں کرنا

کسی بھی شخص سے اب رابطہ نہیں کرنا

جہاں جہاں پہ کوئی ہے، گیا نہیں کرنا

کبھی کبھی تو طبیعت اداس رہتی ہے

گئے دنوں کا مگر تذکرہ نہیں کرنا

تمہیں یہ حق ہے مگر جب بھی فیصلہ کرنا

مِرے معاملے میں مشورہ نہیں کرنا

کہا نا زندگی ریورس میں نہیں چلتی

ہماری واپسی کی التجا نہیں کرنا

کسی کے جھگڑے میں اپنا ہی جسم جلتا ہے

چراغ جیسے جلے چھیڑنا نہیں کرنا

مکان خالی کریں گے تو لوگ بیٹھیں گے

تِرے وجود کو خالی جگہ نہیں کرنا

یہ میرا عجز ملامت کی ایک سیڑھی ہے

جہاں پہ بیٹھ گئے پھر اٹھا نہیں کرنا

بہت سے لوگ گنوائے ہیں زندگی میں نعیم

انا کی جنگ میں اب سامنا نہیں کرنا


نعیم اللہ انمول

No comments:

Post a Comment