کام الٹا ہو گیا جذبات میں
کچھ خطا ہم سے ہوئی ہے بات میں
اور کوئی دل میں آئے کس طرح
آپ جو رہتے ہو احساسات میں
دشمنوں سے کچھ نہیں خطرہ مجھے
یار خود بیٹھے ہیں میری گھات میں
کام الٹا ہو گیا جذبات میں
کچھ خطا ہم سے ہوئی ہے بات میں
اور کوئی دل میں آئے کس طرح
آپ جو رہتے ہو احساسات میں
دشمنوں سے کچھ نہیں خطرہ مجھے
یار خود بیٹھے ہیں میری گھات میں
کسی سے کہاں ورنہ ہم بولتے ہیں
مگر کیا کریں، دل کے غم بولتے ہیں
جنہیں علم و حکمت کی دولت عطا ہو
ہمیشہ وہی لوگ کم بولتے ہیں
وہ پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمارے
نہ وہ بولتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں
جہاں دریچہ نہ کوئی در ہے
وہی تو انساں کا اصل گھر ہے
اسے عمل سے بناؤ گلشن
حیات کانٹوں کی رہگزر ہے
نہیں ہے پہلو میں اب جو موجود
یہ دل ابھی تو اِدھر اُدھر ہے
بزم سے احباب کچھ ایسے گئے
عمر بھر کا جو ہمیں دُکھ دے گئے
ہر طرف بادِ خزاں چلتی رہی
زرد پتے شاخ سے گِرتے گئے
لد گئی جب رونقِ فصلِ بہار
عندلیبانِ چمن سارے گئے
خاص کر ان حسین لوگوں سے
اٹھ گیا ہے یقین لوگوں سے
دے کے رنج و الم کی سوغاتیں
زندگانی نہ چھین لوگوں سے
کب محبت سے بات کرتے ہو
اپنے زیرِ نگین لوگوں سے