Showing posts with label زاہد خرازی. Show all posts
Showing posts with label زاہد خرازی. Show all posts

Tuesday, 11 July 2023

کام الٹا ہو گیا جذبات میں

 کام الٹا ہو گیا جذبات میں

کچھ خطا ہم سے ہوئی ہے بات میں

اور کوئی دل میں آئے کس طرح

آپ جو رہتے ہو احساسات میں

دشمنوں سے کچھ نہیں خطرہ مجھے

یار خود بیٹھے ہیں میری گھات میں

Sunday, 25 June 2023

کسی سے کہاں ورنہ ہم بولتے ہیں

 کسی سے کہاں ورنہ ہم بولتے ہیں

مگر کیا کریں، دل کے غم بولتے ہیں

جنہیں علم و حکمت کی دولت عطا ہو

ہمیشہ وہی لوگ کم بولتے ہیں

وہ پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمارے

نہ وہ بولتے ہیں نہ ہم بولتے ہیں

Tuesday, 20 June 2023

جہاں دریچہ نہ کوئی در ہے

 جہاں دریچہ نہ کوئی در ہے

وہی تو انساں کا اصل گھر ہے

اسے عمل سے بناؤ گلشن

حیات کانٹوں کی رہگزر ہے

نہیں ہے پہلو میں اب جو موجود

یہ دل ابھی تو اِدھر اُدھر ہے

Tuesday, 13 June 2023

بزم سے احباب کچھ ایسے گئے

 بزم سے احباب کچھ ایسے گئے

عمر بھر کا جو ہمیں دُکھ دے گئے

ہر طرف بادِ خزاں چلتی رہی

زرد پتے شاخ سے گِرتے گئے

لد گئی جب رونقِ فصلِ بہار

عندلیبانِ چمن سارے گئے

Monday, 12 June 2023

خاص کر ان حسین لوگوں سے

 خاص کر ان حسین لوگوں سے

اٹھ گیا ہے یقین لوگوں سے

دے کے رنج و الم کی سوغاتیں

زندگانی نہ چھین لوگوں سے

کب محبت سے بات کرتے ہو

اپنے زیرِ نگین لوگوں سے