کام الٹا ہو گیا جذبات میں
کچھ خطا ہم سے ہوئی ہے بات میں
اور کوئی دل میں آئے کس طرح
آپ جو رہتے ہو احساسات میں
دشمنوں سے کچھ نہیں خطرہ مجھے
یار خود بیٹھے ہیں میری گھات میں
سامنے تھے آپ اور بُجھتا چراغ
ہائے کیا جادو تھا کالی رات میں
رنجِ یاراں، فکردوراں اور جنوں
زندگی الجھی ہے کِن آفات میں
اس کے بارے میں بتا قاصد مجھے
کر اضافہ میری معلومات میں
میرے کوچے میں ہے ماتم کا سماں
اور خوشیاں ہیں تِری بارات میں
ہو گئے یکجاں غمِ دوراں اور عشق
کیا ملے گا چین ان حالات میں
رسم کو مذہب بنانے کے لیے
لوگ سارے پڑ گئے بدعات میں
دل کی خواہش اب خرازی چھوڑ دے
اب نہیں آنے کا تیرے ہات میں
زاہد خرازی
No comments:
Post a Comment