Showing posts with label وکاس شرما راز. Show all posts
Showing posts with label وکاس شرما راز. Show all posts

Monday, 19 February 2024

دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم

 دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم

باز گشت اپنی سُن رہے ہیں ہم

مدتیں ہو گیئں حساب کئے

کیا پتہ کتنے رہ گئے ہیں ہم

وحشتیں لگ گئیں ٹھکانے سب

دشت کو راس آ گئے ہیں ہم

Sunday, 18 February 2024

ذروں کی باتوں میں آنے والا تھا

 ذروں کی باتوں میں آنے والا تھا

میں صحرا سے ربط بڑھانے والا تھا

بارش امیدوں پر پانی پھیر گئی

میں رشتوں کو دھوپ لگانے والا تھا

پھر یاد آیا دور بہت ہی دور ہو تم

میں پاگل آواز لگانے والا تھا

Sunday, 11 February 2024

اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھا

 اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھا

وہی پڑھایا گیا مجھ کو جو نصاب میں تھا

وہی تو دن تھے اجالوں کے پھول چننے کے

انہیں دنوں میں اندھیروں کے انتخاب میں تھا

بس اتنا یاد ہے کوئی بگولا اٹھا تھا

پھر اس کے بعد میں صحرائے اضطراب میں تھا

Sunday, 26 November 2023

مسافروں کے لئے سازگار تھوڑی ہے

 مسافروں کے لیے سازگار تھوڑی ہے

شجر ببول کا ہے، سایہ دار تھوڑی ہے

یہ کھینچ تان تو حصہ ہے دوستی کا میاں

تعلقات میں لیکن درار تھوڑی ہے

اسے بھی ضد ہے کہ شادی کرے گی تو مجھ سے

جنون میرے ہی سر پہ سوار تھوڑی ہے

Saturday, 25 November 2023

جنوں کی پیروی سے خوش نہیں ہوں

 جنوں کی پیروی سے خوش نہیں ہوں

تِری دیوانگی سے خوش نہیں ہوں

ارادہ تو نہیں ہے خود کشی کا

مگر میں زندگی سے خوش نہیں ہوں

مجھے سُورج سے کچھ شکوہ نہیں ہے

میں اپنی روشنی سے خوش نہیں ہوں

Wednesday, 9 November 2022

ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے

 ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے

چراغ بجھنے سے انکار کرنے والا ہے

خدا کرے کہ تِرا عزم برقرار رہے

زمانہ راہ میں دیوار کرنے والا ہے

وہی دکھائے گا تجھ کو تمام داغ تِرے

جسے تُو آئینہ بردار کرنے والا ہے