دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم
باز گشت اپنی سُن رہے ہیں ہم
مدتیں ہو گیئں حساب کئے
کیا پتہ کتنے رہ گئے ہیں ہم
وحشتیں لگ گئیں ٹھکانے سب
دشت کو راس آ گئے ہیں ہم
دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم
باز گشت اپنی سُن رہے ہیں ہم
مدتیں ہو گیئں حساب کئے
کیا پتہ کتنے رہ گئے ہیں ہم
وحشتیں لگ گئیں ٹھکانے سب
دشت کو راس آ گئے ہیں ہم
ذروں کی باتوں میں آنے والا تھا
میں صحرا سے ربط بڑھانے والا تھا
بارش امیدوں پر پانی پھیر گئی
میں رشتوں کو دھوپ لگانے والا تھا
پھر یاد آیا دور بہت ہی دور ہو تم
میں پاگل آواز لگانے والا تھا
اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھا
وہی پڑھایا گیا مجھ کو جو نصاب میں تھا
وہی تو دن تھے اجالوں کے پھول چننے کے
انہیں دنوں میں اندھیروں کے انتخاب میں تھا
بس اتنا یاد ہے کوئی بگولا اٹھا تھا
پھر اس کے بعد میں صحرائے اضطراب میں تھا
مسافروں کے لیے سازگار تھوڑی ہے
شجر ببول کا ہے، سایہ دار تھوڑی ہے
یہ کھینچ تان تو حصہ ہے دوستی کا میاں
تعلقات میں لیکن درار تھوڑی ہے
اسے بھی ضد ہے کہ شادی کرے گی تو مجھ سے
جنون میرے ہی سر پہ سوار تھوڑی ہے
جنوں کی پیروی سے خوش نہیں ہوں
تِری دیوانگی سے خوش نہیں ہوں
ارادہ تو نہیں ہے خود کشی کا
مگر میں زندگی سے خوش نہیں ہوں
مجھے سُورج سے کچھ شکوہ نہیں ہے
میں اپنی روشنی سے خوش نہیں ہوں
ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے
چراغ بجھنے سے انکار کرنے والا ہے
خدا کرے کہ تِرا عزم برقرار رہے
زمانہ راہ میں دیوار کرنے والا ہے
وہی دکھائے گا تجھ کو تمام داغ تِرے
جسے تُو آئینہ بردار کرنے والا ہے