Showing posts with label خورشید اکبر. Show all posts
Showing posts with label خورشید اکبر. Show all posts

Monday, 21 August 2023

شہر انکار میں اقرار کے سکے کی کھنکتی رہی لذت جاناں

 شہر انکار میں اقرار کے سکے کی کھنکتی رہی لذت جاناں

رفتہ رفتہ ہوئی کافور وہ ہر بات پہ تکرار کی لذت جاناں

خوب روتا تھا وہ معصوم کبھی مان بھی جاتا تھا کھلونے لے کر

اس کو بہلانا تھا لازم کہ تھی بازار میں ہر رنگ کی راحت جاناں

کیا وہ تہذیب تھی خود دار جو مٹی میں پڑی یوں ہی تڑپتی ہی ملی

کیا بہ صد حسن طلب وقت کی دہلیز پہ بیٹھی ہے قیامت جاناں

Friday, 4 August 2023

کیا سروں کے ساتھ ہے سازش دھواں ہوتی ہوئی سی

 کیا سروں کے ساتھ ہے سازش دُھواں ہوتی ہوئی سی

پاؤں کے نیچے کوئی شے آسماں ہوتی ہوئی سی

ذہن کے آئینے میں گُلِ نُور مُرجھایا ہوا سا

مُشکِ قُربت، یاد جنت رائیگاں ہوتی ہوئی سی

عمر بھر آزار کی لذت، وہ شرطِ خوش کلامی

جم گئی نم دیدہ آنکھوں میں بیاں ہوتی ہوئی سی

Friday, 25 March 2022

اس نے کہا تھا چھوٹی سی فرمائش ہے

 بھیگا موسم


اس نے کہا تھا چھوٹی سی فرمائش ہے

میں نے کہا تھا بھولی بھالی خواہش ہے

اس نے کہا تھا روح میں خارش ہوتی ہے

میں نے کہا تھا جسموں کی سازش ہوتی ہے

اس نے کہا تھا بادل کالے ہوتے ہیں

Wednesday, 7 July 2021

شہر کا شہر ہے بیزار کہاں جاؤں میں

 شہر کا شہر ہے بے زار کہاں جاؤں میں

اور تنہائی ہے دُشوار کہاں جاؤں میں

لوگ مرتے ہیں سِسکتے ہیں مزے لیتے ہیں

دیکھ کر سرخئ اخبار کہاں جاؤں میں

تُو جو کہتا ہے کہ یہ خاکِ وطن تیری ہے

میں کہاں پر ہوں مِرے یار کہاں جاؤں میں

Monday, 21 June 2021

بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

 بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

جیسے رستہ بھول گئی ہو ایک ندی پتھریلی سی

میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے

میں سُوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی

دیکھوں کیسی فصل اُگاتا ہے موسم تنہائی کا

درد کے بیج کی نسل ہے اونچی دل کی مٹی گیلی سی

Friday, 18 June 2021

مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ

 مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ

تم اسے خاک سمجھتے ہو بدن آگ ہے آگ

اس کی حسرت میں بھلے لوگ مَرے جاتے ہیں

کون سمجھائے کہ وہ غُنچہ دہن آگ ہے آگ

اپنی تہذیب کو پانی کی ضرورت ہو گی

چُوم آیا ہوں لبِ گنگ و جمن آگ ہے آگ

Wednesday, 16 June 2021

بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا

 بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا

میں اپنی جان کو اب کے ستارہ کر کے دیکھوں گا

وہ تنہا جستجو بے چین سی رہتی ہے آنکھوں میں

قیامت آ بھی جائے تو گوارہ کر کے دیکھوں گا

قضا اکثر مِرے کوچے سے بے پردہ گزرتی ہے

اسے بھی کھیلتے ہنستے اشارہ کر کے دیکھوں گا

Tuesday, 15 June 2021

دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی

 دن بہت سفّاک نکلا رات سب دُکھ سہہ گئی

دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی

سنگریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں

دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی

صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے

اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی

Monday, 14 June 2021

غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے

 غلام سر پہ عبادت ابھی نہ رکھی جائے

خدا کے نام بغاوت ابھی نہ رکھی جائے

میں ٹھیک ٹھاک تو کر لوں حسب نسب اپنا

لہو پہ شرط ندامت ابھی نہ رکھی جائے

کہ جس کی آنچ سے جبریل آگہی جھُلسیں

انا میں اتنی تمازت ابھی نہ رکھی جائے

Saturday, 20 February 2021

ستم کی انتہا پر چل رہی ہے

 ستم کی انتہا پر چل رہی ہے

یہ دنیا کس خدا پر چل رہی ہے

دلوں پر قہر کا موسم ہے کیسا

مِری بستی دعا پر چل رہی ہے

لہو سے کھیلتے ہیں سب فرشتے

سیاست فاتحہ پر چل رہی ہے