شہر انکار میں اقرار کے سکے کی کھنکتی رہی لذت جاناں
رفتہ رفتہ ہوئی کافور وہ ہر بات پہ تکرار کی لذت جاناں
خوب روتا تھا وہ معصوم کبھی مان بھی جاتا تھا کھلونے لے کر
اس کو بہلانا تھا لازم کہ تھی بازار میں ہر رنگ کی راحت جاناں
کیا وہ تہذیب تھی خود دار جو مٹی میں پڑی یوں ہی تڑپتی ہی ملی
کیا بہ صد حسن طلب وقت کی دہلیز پہ بیٹھی ہے قیامت جاناں