Monday, 21 June 2021

بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

 بھٹک رہی ہے روح کے اندر لذت سوکھی گیلی سی

جیسے رستہ بھول گئی ہو ایک ندی پتھریلی سی

میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے

میں سُوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی

دیکھوں کیسی فصل اُگاتا ہے موسم تنہائی کا

درد کے بیج کی نسل ہے اونچی دل کی مٹی گیلی سی

دروازے پر منہ لٹکائے قلت رنگ و روغن کی

آنگن آنگن جشن منائے خواہش نیلی پیلی سی

مجھ کو بانٹ کے رکھ دیتی ہے دھوپ چھانو کے خیموں میں

کچھ بے غیرت سی مصروفی کچھ فرصت شرمیلی سی

دن بھر کی جاں سوز تھکن کا اجر چکانے کو خورشید

شام کے پربت پر بیٹھی ہے اک ساعت نوکیلی سی


خورشید اکبر

No comments:

Post a Comment