دیوانگی میں اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں
اے عشق اس مقام پہ تو آ گیا ہوں میں
ڈر ہے کہ دم نہ توڑ دوں گھٹ گھٹ کے ایک دن
برسوں سے اپنے جسم کے اندر پڑا ہوں میں
طوفاں میں جو نہ بجھ سکے ہوں گے وہ اور لوگ
آندھی سے اختلاف میں اکثر بجھا ہوں میں
دیوانگی میں اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں
اے عشق اس مقام پہ تو آ گیا ہوں میں
ڈر ہے کہ دم نہ توڑ دوں گھٹ گھٹ کے ایک دن
برسوں سے اپنے جسم کے اندر پڑا ہوں میں
طوفاں میں جو نہ بجھ سکے ہوں گے وہ اور لوگ
آندھی سے اختلاف میں اکثر بجھا ہوں میں
میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا
انجام کہہ رہا ہے خطا میں لگا رہا
سارے پرانے زخم نئے زخم نے بھرے
بے کار اتنے دن میں دوا میں لگا رہا
ایسا نہیں کہ چاند نہ اترا ہو بام پر
میں ہی تمام رات حیا میں لگا رہا
تجھ کو دیکھا تو یہ لگا ہے مجھے
عشق صدیوں سے جانتا ہے مجھے
آشنا سڑکیں،۔ اجنبی چہرہ
شہر میں اور کیا دکھا ہے مجھے
لوگ قیمت مِری لگاتے ہیں
کس جگہ تُو نے رکھ دیا ہے مجھے
آسماں مل نہ سکا، دھرتی پہ آیا نہ گیا
زندگی! ہم سے کوئی ٹھور بنایا نہ گیا
آسماں مجھ سے میاں حجرے میں لایا نہ گیا
شاعری چھوڑ دی، مفہوم چُرایا نہ گیا
نوکری کی، لکھی نظمیں، سکوں پایا نہ گیا
شہرِ دل! تجھ کو کسی طور بسایا نہ گیا
ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں
اور حد یہ ہے کہ کہنا ہے روانی میں ہوں میں
زندگی جکڑے ہوئے تھی مِرے اندر مجھ کو
موت کے بعد لگا جیسے روانی میں ہوں میں
میرے ہونے پہ جہاں مجھ کو ہی شک ہوتا تھا
آج اس شہر کی نایاب نشانی میں ہوں میں