Showing posts with label عمران بدایونی. Show all posts
Showing posts with label عمران بدایونی. Show all posts

Sunday, 30 January 2022

دیوانگی میں اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں

 دیوانگی میں اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں 

اے عشق اس مقام پہ تو آ گیا ہوں میں 

ڈر ہے کہ دم نہ توڑ دوں گھٹ گھٹ کے ایک دن 

برسوں سے اپنے جسم کے اندر پڑا ہوں میں 

طوفاں میں جو نہ بجھ سکے ہوں گے وہ اور لوگ 

آندھی سے اختلاف میں اکثر بجھا ہوں میں 

Tuesday, 11 January 2022

میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا

 میں ساری عمر عہد وفا میں لگا رہا

انجام کہہ رہا ہے خطا میں لگا رہا

سارے پرانے زخم نئے زخم نے بھرے

بے کار اتنے دن میں دوا میں لگا رہا

ایسا نہیں کہ چاند نہ اترا ہو بام پر

میں ہی تمام رات حیا میں لگا رہا

Sunday, 26 December 2021

تجھ کو دیکھا تو یہ لگا ہے مجھے

 تجھ کو دیکھا تو یہ لگا ہے مجھے 

عشق صدیوں سے جانتا ہے مجھے  

آشنا سڑکیں،۔ اجنبی چہرہ

شہر میں اور کیا دکھا ہے مجھے

لوگ قیمت مِری لگاتے ہیں 

کس جگہ تُو نے رکھ دیا ہے مجھے 

Saturday, 25 December 2021

آسماں مل نہ سکا دھرتی پہ آیا نہ گیا

 آسماں مل نہ سکا، دھرتی پہ آیا نہ گیا

زندگی! ہم سے کوئی ٹھور بنایا نہ گیا

آسماں مجھ سے میاں حجرے میں لایا نہ گیا

شاعری چھوڑ دی، مفہوم چُرایا نہ گیا

نوکری کی، لکھی نظمیں، سکوں پایا نہ گیا

شہرِ دل! تجھ کو کسی طور بسایا نہ گیا

Sunday, 2 May 2021

ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

 ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

اور حد یہ ہے کہ کہنا ہے روانی میں ہوں میں

زندگی جکڑے ہوئے تھی مِرے اندر مجھ کو

موت کے بعد لگا جیسے روانی میں ہوں میں

میرے ہونے پہ جہاں مجھ کو ہی شک ہوتا تھا

آج اس شہر کی نایاب نشانی میں ہوں میں