Showing posts with label انور صادقی. Show all posts
Showing posts with label انور صادقی. Show all posts

Wednesday, 17 December 2025

رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا

 رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا

تب کہیں جا کے امیدوں کا سویرا ہو گا

میں ہوں اک طائرِ آزاد، مجھے کیا معلوم

دن کہاں بیتے، کہاں رین بسیرا ہو گا

جیتے جی ان سے رفاقت کے بنا لے اسباب

حشر کی بھیڑ میں کوئی بھی نہ تیرا ہو گا

Wednesday, 5 March 2025

جو لوگ طاعت خیرالانام کرتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو لوگ طاعت خیرالانام کرتے ہیں

وہی تمیزِ حلال و حرام کرتے ہیں

حسیں نظر ہو تو ہر چیز بات کرتی ہے

شکستہ آئینہ خآنے بھی کام کرتے ہیں

دلوں میں جن کے ہیں جذبات سرفرازی کے

صلیب و دار بھی ان کو سلام کرتے ہیں

Thursday, 27 February 2025

لائے گا رنگ جذبۂ ایثار دیکھنا

 لائے گا رنگ جذبۂ ایثار دیکھنا

آنے دو وقت ہم کو سرِ دار دیکھنا

جاتی ہے جان جائے مگر یار دیکھنا

اٹھنے نہ پائے پردۂ اسرار دیکھنا

چہرے سے تم نقاب اٹھاتے تو ہو مگر

غش کھا نہ جائیں ظالبِ دیدار دیکھنا

Tuesday, 18 January 2022

گماں کو دور حقیقت کو پاس رکھتا ہوں

اک خودی بے خودی کے اندر ہے

راز خود راز ہی کے اندر ہے

اک قیامت کوئی قیامت سی

زیر لب خامشی کے اندر ہے

ایک اک قطرہ گریۂ شبنم

پھول جیسی ہنسی کے اندر ہے

Monday, 27 September 2021

رہ ہستی میں کوئی رہنما ہونا ضروری ہے

رہ ہستی میں کوئی رہنما ہونا ضروری ہے 

سفر کشتی کا ہو تو ناخدا ہونا ضروری ہے 

تری آنکھوں میں کچھ شرم و حیا ہونا ضروری ہے 

دریدہ ہی سہی سر پر ردا ہونا ضروری ہے 

جو نفرت ہو تو لازم ہے زباں پر مہر خاموشی 

محبت ہے تو پھر شکوہ گلہ ہونا ضروری ہے