رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا
تب کہیں جا کے امیدوں کا سویرا ہو گا
میں ہوں اک طائرِ آزاد، مجھے کیا معلوم
دن کہاں بیتے، کہاں رین بسیرا ہو گا
جیتے جی ان سے رفاقت کے بنا لے اسباب
حشر کی بھیڑ میں کوئی بھی نہ تیرا ہو گا
رات بھیگے گی ابھی اور سویرا ہو گا
تب کہیں جا کے امیدوں کا سویرا ہو گا
میں ہوں اک طائرِ آزاد، مجھے کیا معلوم
دن کہاں بیتے، کہاں رین بسیرا ہو گا
جیتے جی ان سے رفاقت کے بنا لے اسباب
حشر کی بھیڑ میں کوئی بھی نہ تیرا ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو لوگ طاعت خیرالانام کرتے ہیں
وہی تمیزِ حلال و حرام کرتے ہیں
حسیں نظر ہو تو ہر چیز بات کرتی ہے
شکستہ آئینہ خآنے بھی کام کرتے ہیں
دلوں میں جن کے ہیں جذبات سرفرازی کے
صلیب و دار بھی ان کو سلام کرتے ہیں
لائے گا رنگ جذبۂ ایثار دیکھنا
آنے دو وقت ہم کو سرِ دار دیکھنا
جاتی ہے جان جائے مگر یار دیکھنا
اٹھنے نہ پائے پردۂ اسرار دیکھنا
چہرے سے تم نقاب اٹھاتے تو ہو مگر
غش کھا نہ جائیں ظالبِ دیدار دیکھنا
اک خودی بے خودی کے اندر ہے
راز خود راز ہی کے اندر ہے
اک قیامت کوئی قیامت سی
زیر لب خامشی کے اندر ہے
ایک اک قطرہ گریۂ شبنم
پھول جیسی ہنسی کے اندر ہے
رہ ہستی میں کوئی رہنما ہونا ضروری ہے
سفر کشتی کا ہو تو ناخدا ہونا ضروری ہے
تری آنکھوں میں کچھ شرم و حیا ہونا ضروری ہے
دریدہ ہی سہی سر پر ردا ہونا ضروری ہے
جو نفرت ہو تو لازم ہے زباں پر مہر خاموشی
محبت ہے تو پھر شکوہ گلہ ہونا ضروری ہے