Tuesday, 18 January 2022

گماں کو دور حقیقت کو پاس رکھتا ہوں

اک خودی بے خودی کے اندر ہے

راز خود راز ہی کے اندر ہے

اک قیامت کوئی قیامت سی

زیر لب خامشی کے اندر ہے

ایک اک قطرہ گریۂ شبنم

پھول جیسی ہنسی کے اندر ہے

ہنس پڑے ہم تو رو پڑیں آنکھیں

غم بھی شاید خوشی کے اندر ہے

دن ڈھلے گا تو رات آئے گی

تیرگی روشنی کے اندر ہے

💢حسن آرائیاں بجا، لیکن

دلکشی سادگی کے اندر ہے

💢نعرۂ انقلاب اے انور💢

آج بھی شاعری کے اندر ہے


انور صادقی

عبدالحمید

No comments:

Post a Comment